گڑھے میں پہنچا دیتی ہے ،۔۔۔۔۔۔یہ جب آتی ہے تو اس کی سختی ایسی ہے کہ انسان کو ہزار تلواروں کے زخم اس کے مقابلے میں ہلکے محسوس ہوں ، زندہ بکری کی کھال کھینچ لی جائے تو اس کی تکلیف اس سےکہیں کم ہوگی جتنی موت کے آنے پر ہوتی ہے ،ہاں! جس کے لئے اللہ عزوجل چاہے اس کی موت کو آسان فرمادیتا ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے آنے کے طریقے بھی یکساں نہیں ہوتے بلکہ کوئی پانی میں ڈوب کر مرتا ہے تو کوئی آگ میں جل کر ، کوئی بستر پر مرتا ہے تو کوئی سفر میں ، کوئی ملبے تلے دب کر ہلاک ہوتا ہے تو کوئی بلندی سے گر کر ، کوئی ایکسیڈنٹ میں اپنی جان ہارتا ہے تو کوئی کسی بم دھماکے کا شکار ہوتا ہے ، کوئی زہریلی چیز کھالینے سے مرتا ہے تو کوئی زہریلی شے کے کاٹ لینے پر ، کوئی ہارٹ اٹیک کے ذریعے اچانک دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو کوئی کینسر کے جان لیوا مرض کے سبب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ،کوئی کسی خونخوار درندے کا نوالہ بنتا ہے تو کوئی کسی قاتل کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترتا ہے ،۔۔۔۔۔۔ اے بندے سوچ تو سہی ! تیری موت کس طرح آئے گی؟۔۔۔۔۔۔کیا تو اس کی سختیاں جھیل پائے گا ؟۔۔۔۔۔۔ کیا تو اپنے پیاروں سے جدائی کے صدمات کو برداشت کر پائے گا ؟۔۔۔۔۔۔غنیمت جان کہ ابھی تک تجھ پر یہ وقت نہیں آیا ، لہذا اپنی موت کے لئے تیاری کر لے ، آج گناہوں سے پرہیز کر کے اپنی نیکیوں میں اضافہ کر لے ،اور اپنے رب ل سے زندگی میں اورموت کے وقت عافیت کا طلب گار بن جا، شاید کہ تجھ پر موت کی سختیاں کچھ آسان ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ تیرا حامی وناصر ہو ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ''