| فکرِ مدینہ |
میرا دل انتہائی سخت ہوچکاہو جس کی وجہ سے میں ان کیفیات سے اب تک محروم ہوں؟آہ!سخت دلی اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غفلت کہیں مجھے جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں نہ گرا دے ۔ ''
اس کے بعد اپنے آپ سے یوں عہد کیجئے کہ ،''میں آج کے بعد اپنے دل میں خوفِ خدا ل کی کیفیت بیدار کرنے کی بھر پور کوشش کروں گا ، تاکہ مجھے نیکیاں کرنے میں آسانی اور گناہوں کے ارتکاب میں بے حد دشواری محسوس ہو ، میں بھی اپنے اللہ عزوجل کے خوف سے رویا کروں گا تاکہ اس فضیلت کو حاصل کر سکوں کہ رحمتِ کونین انے ارشاد فرمایا،'' جو شخص اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئے تو وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔''
(کنز العمال ، ،ج۳،ص۶۳،رقم الحدیث ۵۹۰۹ )(13) اپنی موت کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
کبھی اپنی موت کے بارے میں اس طرح فکر ِ مدینہ کیجئے،''اے بندے! آج تُوعیش وعشرت کی زندگی کے مزے لوٹ رہا ہے، لذتِ گناہ نے تجھے اندھا کردیا اورتو رونق ِ دنیا میں مگن ہو کر رہ گیا،۔۔۔۔۔۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ ایک دن تجھے بھی موت آئے گی ، وہ موت جو ماں باپ کو بیٹے سے ،بیٹے کو والدین سے ، بہن کو بھائی سے ، بھائی کو بہن سے،بھائی کوبھائی سے ، شوہر کو بیوی سے ، بیوی کو شوہر سے اور انسان کو اپنے دوستوں سے جدا کردیتی ہے ، ۔۔۔۔۔۔یہ وہ ہے کہ جب اِس کے آنے کاوقت آجائے تو کوئی خوشی یا غم ، کوئی مصروفیت ، کسی قسم کے ادھورے کام اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے،۔۔۔۔۔۔ اور اس کے آنے کا وقت بھی تجھے معلوم نہیں ،۔۔۔۔۔۔ یہ کسی خاص عمر کی بھی پابند نہیں ،بچہ ہو یا بوڑھا ، جوان ہو یا اُدھیڑ عمر یہ بلاامتیاز سب کو زندگی کی رونقوں کے بیچ سے اٹھا کر قبر کے