Brailvi Books

فکرِ مدینہ
144 - 166
مال چھن جانے کا خوف، بے روزگاری کا خوف ، عہدہ چھن جانے کا خوف ، پولیس کا خوف ، والدین اور استاذ کی ڈانٹ ڈپٹ کا خوف وغیرھم ۔۔۔۔۔۔اے بندے سوچ تو سہی ! جس طرح دنیاوی خوف سے تیرا دل سہما رہتا ہے ، کیا کبھی اپنے رب عزوجل کی بے نیازی ، اس کی پکڑ ، اس کی جانب سے دی جانے والی گناہوں کی سزاؤں کا سوچ کر بھی تیرے دل پر گھبراہٹ طاری ہوئی ہے ؟۔۔۔۔۔۔اب تک تُواپنی زندگی کی کتنی سانسیں لے چکاہے، بچپن ،جوانی ،بڑھاپے میں سے تُو اپنی عمر کے کتنے اَدوار گزار چکا ہے؟ کیا کبھی تیرے بدن پر بھی اللہ عزوجل کے ڈر سے لرزہ طاری ہوا ؟ کیا غم ِ دنیا میں بہنے والی تیری اِن آنکھوں سے خشیتِ الٰہی ل کی وجہ سے آنسو نکلے ؟ کیا کبھی کسی گناہ کے لئے اٹھے ہوئے تیرے قدم اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کا سوچ کر واپس ہوئے ؟کیا کبھی تُونے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری اور اس کی طرف سے کی جانے والی گرفت کے ڈر سے زندگی کی کوئی رات جاگ کر گزاری ؟ کیا کبھی رب تعالیٰ کی ناراضگی کا سوچ کرتجھے گناہوں سے وحشت محسوس ہوئی ؟ ''

     اگر جواب ہاں میں ہو تو ذرا سوچئے کہ،'' میں نے ان کیفیات کو محسوس بھی کیا تو کیا خوفِ خدا ل کے عملی تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کی سعادت حاصل کی یا محض ان کیفیات کے دل پر طاری ہونے پر مطمئن ہو گیا کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں میں سے ہوں اورآنکھ ، زبان ، کان ،ہاتھ ، پاؤں، دل کے ذریعے کئے جانے والے مختلف گناہوں سے اپنا نامہ اعمال بدستور سیاہ کرنے کا عمل جاری رکھا اور نیکیوں سے محرومی کا تسلسل بھی نہ ٹوٹ سکا؟ ۔۔۔۔۔۔''

    اور اگرجواب نفی میں آئے تو غور کیجئے،'' کہیں ایسا تو نہیں کہ کثرتِ گناہ سے