Brailvi Books

فکرِ مدینہ
143 - 166
وار، ماہانہ اور سالانہ جائزہ لیتا ہے،لاگت اور آمدنی کا حساب کر کے نفع کی رقم الگ کر لیتا ہے اور اس میں سے اپنی ضرورت کے بقدر رقم رکھنے کے بعد بقیہ دوبارہ کاروبار میں لگا دیتا ہے ، ۔۔۔۔۔۔ بِکری بڑھانے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتا ہے مثلاً ڈیکوریشن، گاہگوں سے ڈیل کرنے  کےدوران خوش اخلاقی کا پیکر بنے رہنا ، کسی گاہگ کو بد ظن نہ ہونے دینا، وقت پر دکان کھولنا اور بند کرنا ، مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لیتے رہنا ، تجربہ کار لوگوں سے مشاورت کرتے رہنا وغیرہ ۔۔۔۔۔۔ 

    لیکن یاد رکھ! یہ دنیوی کاروبار تو یہیں رہ جائے گا کیونکہ اس کی منزل تومحض دنیاوی ضروریات کو پوراکرنا اور سہولیاتِ زندگی حاصل کرلینا ہے ،۔۔۔۔۔۔ اس لئے بطورِ مسلمان تجھے اپنی دنیا کی ہی نہیں بلکہ بہتر آخرت کی بھی فکر ہونی چاہے ،۔۔۔۔۔۔ اور بہتر آخرت کے لئے ضروری ہے کہ تُو اپنے کاروبار ِ آخرت پر اس سے کہیں زیادہ توجہ دے جتنی تو اس دنیاوی کاروبار پر دیتا ہے ،۔۔۔۔۔۔لہذا! تجھے چاہیے کہ روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے ، جو عمل نقصان ِ آخرت کا سبب بنے اسے چھوڑ دے اور جو عمل آخرت کے لئے نفع بخش ثابت ہو اسے اپنائے رکھے اور مزید بہتر کرے ،۔۔۔۔۔۔اس طریقہ کار کو اپنانے سے تُو آخرت میں رحمتِ الٰہی ل کے سبب نفع یعنی جنت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ۔ان شاء اللہ عزوجل ''
 (12) خوف کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    کبھی اس طرح فکر ِ مدینہ کریں ،''اے بندے ! آج تجھے طرح طرح کے دنیاوی خوف نے گھیر رکھا ہے مثلا بھوک کا خوف ، غربت کا خوف ،بے عزتی کا خوف، قرض خواہوں کا خوف، نوکری سے نکالے جانے کا خوف ، کاروباری نقصان کا خوف،
Flag Counter