Brailvi Books

فکرِ مدینہ
142 - 166
رمضان کے تیس دن سحری تا افطاری میری رضاء کے لئے ان سے ہاتھ روک لے اور روزہ رکھ ، ۔۔۔۔۔۔چاہے تُو جتنا چاہے مال کمااور خرچ کر لیکن مخصوص مقدار ِ مال پر سال گزرنے پر میرے غریب بندوں کو بھی ان کا حصہ دے اور زکوۃ ادا کر ،۔۔۔۔۔۔ چاہے تُودنیا میں جہاں چاہے بسیرا کر لیکن جب تیرے پاس میرے گھرکعبہ مشرفہ کی زیارت کے لئے سفر کرنے کے اسباب مہیاہوجائیں تو پوری زندگی میں صرف ایک بارعظمتِ کعبہ کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوجااور حج کر،۔۔۔۔۔۔اے میرے بندے! میری دی ہوئی نعمتوں کا جوچاہے استعمال کر لیکن انہیں میری نافرمانی میں استعمال نہ کرنا کہ میں نے نافرمانوں کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے ، ۔۔۔۔۔۔'' 

    اے شخص !     یقینا تجھے کسی مخلوق سے کہیں زیادہ اپنے رب ل سے ڈرنا چاہیے، اس کی دی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے ، قصور ہوجائے تو اعتراف کرنے اور معافی مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ'' وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ''، نیکی ہوجانے پر اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تجھے اس کی توفیق دی ،امیدہے کہ آج کے بعد تُو ایسا ہی کریگا۔ ان شاء اللہ عزوجل''
 (11) کاروبار کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    کبھی اپنے کاروبارکے حوالے سے اس طرح فکر ِ مدینہ کریں ،''اے بندے ! تونے اس کاروبار کو اپنایا کہ تیری ضروریات پوری ہوسکیں اورتُو زندگی کی آسائشیں بھی حاصل کر سکے،۔۔۔۔۔۔ تیرا یہ مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب تو اپنے کاروبار سے خاطر خواہ نفع کمانے میں کامیاب ہوجائے ، ۔۔۔۔۔۔اسی لئے تُو نفع کمانے کے لئے اپنے کاروبار کا ہر پہلو سے خیال رکھتا ہے ، اس کا حساب کتاب رکھتا ہے ،اس کا روزانہ ،ہفتہ
Flag Counter