رمضان کے تیس دن سحری تا افطاری میری رضاء کے لئے ان سے ہاتھ روک لے اور روزہ رکھ ، ۔۔۔۔۔۔چاہے تُو جتنا چاہے مال کمااور خرچ کر لیکن مخصوص مقدار ِ مال پر سال گزرنے پر میرے غریب بندوں کو بھی ان کا حصہ دے اور زکوۃ ادا کر ،۔۔۔۔۔۔ چاہے تُودنیا میں جہاں چاہے بسیرا کر لیکن جب تیرے پاس میرے گھرکعبہ مشرفہ کی زیارت کے لئے سفر کرنے کے اسباب مہیاہوجائیں تو پوری زندگی میں صرف ایک بارعظمتِ کعبہ کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوجااور حج کر،۔۔۔۔۔۔اے میرے بندے! میری دی ہوئی نعمتوں کا جوچاہے استعمال کر لیکن انہیں میری نافرمانی میں استعمال نہ کرنا کہ میں نے نافرمانوں کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے ، ۔۔۔۔۔۔''
اے شخص ! یقینا تجھے کسی مخلوق سے کہیں زیادہ اپنے رب ل سے ڈرنا چاہیے، اس کی دی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے ، قصور ہوجائے تو اعتراف کرنے اور معافی مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ'' وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ''، نیکی ہوجانے پر اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تجھے اس کی توفیق دی ،امیدہے کہ آج کے بعد تُو ایسا ہی کریگا۔ ان شاء اللہ عزوجل''