کی محبت میں مرا جارہا ہے ، اِن کے حصول کے لئے اپنا وقت، دولت اور اپنی ساری صلاحیتیں صرف کر ڈالتا ہے یہاں تک کہ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہر بلکہ دوسرے ملک کا رخ کرنے کو بھی جانے کو تیار ہوجاتا ہے ، ۔۔۔۔۔۔ اور جب امتحان کا وقت قریب آتا ہے تو اپنے ہر طرح کے'' غیر نصابی مشاغل(Non Educational Hobies)'' مثلاً کھیل کود ، دوستوں سے گپ شپ کرنے ، تفریحی مقامات کی سیر وغیرہ کو خیرآباد کہہ کر فقط پڑھائی میں مشغول ہوجاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر رات بھر جاگ کر پڑھنے سے بھی گریز نہیں کرتابلکہ اس کی لئے اینٹی سلیپنگ (Anti Sleeping) گولیاں کھانے پر بھی آمادہ ہوجاتا ہے ،اور اتنا کچھ کرنے کے باوجود اگر امتحان میں فیل(Fail) ہوجائے تو ہمت ہارے بغیر ضمنی امتحان (Suppliment Examination ) کی تیاری میں لگ جاتا ہے ،۔۔۔۔۔۔
لیکن ذرا سوچ تو سہی ! اس تھکا دینے والی بھاگ دوڑ میں تو کس لئے حصہ لے رہا ہے؟۔۔۔۔۔۔محض اس لئے کہ اس جدوجہد کے صلے میں تجھے مختلف ڈگریوں مثلاًEngineering,Doctoriate,M.A,B.Aوغیرہ سے نواز دیا جائے گا، جن کی بناء پر تُولوگوں پر اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ (High Educated)ہونے کا رعب جھاڑ سکے یا اس کے ذریعے کوئی ملازمت(جس کا ملنا بھی یقینی نہیں )حاصل کر سکے ؟۔۔۔۔۔۔لیکن تیرے اس علم کا فائدہ محض اس دنیا تک محدود رہے گا ، اس علم کی بنیاد پر تجھے آخرت میں کوئی فضیلت حاصل نہ ہوسکے گی ،۔۔۔۔۔۔یاد رکھ! آخرت میں فضیلت اُسی علمِ دین کی بناء پر حاصل ہوگی جس کے بارے میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ،''طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم (Search Of Knowldge Is The Duty Of Every Muslim)یعنی : علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔''