Brailvi Books

فکرِ مدینہ
140 - 166
    اے نفس! تو میری اِن باتوں کا برا مانے بغیر غور کر کہ دنیاوی علوم میں توتُو کمال کی بلندیوں کو چُھو لینا چاہتا ہے ، لیکن علم ِ دین کے بارے میں تیری دل چسپی نہ ہونے کے برابر ہے ،۔۔۔۔۔۔ چاہے تُودنیاوی علوم بھی حاصل کر میں تجھے منع نہیں کروں گا لیکن ذرا سوچ کیا یہ ون وے ٹریفک (One Way Traffice)تجھے سفرِ آخرت طے کرنے میں کامیابی دلا سکتی ہے ؟۔۔۔۔۔۔اگر نہیں تو پھر کیوں جانتے بُوجھتے ہوئے بھی انجان بنا بیٹھا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔ دینی احکام پر عمل پیرا ہونے کے لئے اس کے کم از کم اتنے احکام تو سیکھ لے جن کا سیکھنا تجھ پر فرض ہے ، مثلاً عقائد ِ اسلام، عبادات یعنی نماز وروزے وغیرہ کے مسائل ،معاملات یعنی خرید وفروخت کرنے ، کرایہ پر اشیاء کا لین دین کرنے ، (شادی کرنے کی صورت میں )نکاح وطلاق ، حقوق العباد وغیرہ کے مسائل اوراس کے ساتھ ساتھ گناہوں کی پہچان کا علم کہ کون سے افعال وکیفیات گناہ میں شمار ہوتی ہیں اور کونسی نہیں؟۔۔۔۔۔۔

    اے بندے! اگر تونے ان نصیحتوں پر عمل نہ کیا اور یونہی اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہوئے موت کے منہ میں چلا گیا تو تجھے مرنے کے بعد بڑی حسرت ہوگی ، لیکن اس وقت یہ تیرے کچھ کام نہ آئے گی ، لہذا! اپنے طرزِ زندگی ( Life Style)پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے کچھ کوشش آخرت کے لئے بھی کر اور اپنا وقت علمِ دین سیکھنے میں بھی صرف کر،اللہ تعالیٰ تیرا حامی وناصر ہو ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم  ''