Brailvi Books

فکرِ مدینہ
138 - 166
میں کامیاب نہ ہوسکا ۔ 

    ان کے حقوق پورے کرنا تو ایک طرف رہا ،میں نے تو ان میں سے کسی کوگالی بھی دی، کسی پر تہمت لگائی ، کسی کی غیبت کی،کسی کا مال ناحق کھایا، کسی کا خون بہایا، کسی کو بلااجازتِ شرعی تکلیف دی ،کسی کو مارا پیٹا،کسی کا قرض دبالیا، کسی کی چیز عاریتاً لے کر واپس نہ کی،کسی کانام بگاڑ ا ، کسی کی چیز بلااجازت باوجود اسے ناگوار گزرنے کے استعمال کی،کسی کی ریڑھی وغیرہ سے بلا اجازت پھل اٹھا کر کھائے ، کسی ماتحت کی حق تلفی کی اور باوجود ِقدرت اس کی پریشانی کا کوئی حل نہ نکالاوغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔

    آہ صد آہ ! میں نے جن لوگوں کے حقوق تلف کئے ..یا.. ان پر ظلم کیا ، اگر قیامت کے دن ان سب نے میرے خلاف بارگاہ ِ الٰہی عزوجل میں دعویٰ کرڈالا تو مجھے ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے انہیں اپنی نیکیاں دینا پڑیں گی اور جب نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو ان کے گناہ میری گردن پر ڈال دئیے جائیں گے ۔ ہائے افسوس! میرے پاس تو پہلے ہی نیکیوں کا فُقدان ہے اتنے سارے لوگوں کے حقوق کے بدلے میں دینے کے لئے نیکیاں کہا ں سے لاؤں گا اور ان سب کے گناہوں کا بوجھ میں کس طرح سہہ پاؤں گا ،آہ! میرا کیا بنے گا؟۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں میں جلد از جلداپنے بچنے کی کوئی صورت نکالوں گا ،جس کے لئے میں ان سب سے اپنے حقوق معاف کردینے کی درخواست کروں گا،ان پر کئے گئے ظلم کا ازالہ کروں گا ، کسی نہ کسی طرح ان سب کو راضی کر لوں گا تاکہ میدانِ محشر کے کرب ناک ماحول میں مجھے ان کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ان شاء اللہ عزوجل
 (9) علم کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    کبھی علم کے حوالے سے فکر ِ مدینہ کریں کہ ،''اے بندے ! آج تُو دُنیاوی علوم
Flag Counter