| فکرِ مدینہ |
ہرلفظ کا کس طرح حساب آہ! میں دوں گا اللہ عزوجل زباں کا ہو عطا قفل ِمدینہ آقا کی حیا سے جھکی رہتی تھیں نگاہیں آنکھوں پہ لگا مِرے بھائی قفل ِمدینہ گردیکھے گا فلمیں تو قیامت میں پھنسے گا آنکھوں پہ مِرے بھائی لگاقفل ِمدینہ نہ وسوسے آ ئیں نہ مجھے گندے خیالات دے ذہن کا اور دل کا خدال قفل ِمدینہ رفتار کا گفتار کا کردار کا دے دے ہرعضو کا دے مجھ کو خدا ل قفل ِمدینہ دوزخ کی کہاں تاب ہے کمزور بدن میں ہر عضو کا عطارؔ لگا قفل ِمدینہ (ارمغان ِ مدینہ ازامیر اہلِ سنت مدظلہ العالی)
(8) حقوق العباد کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
کبھی اس طرح اپنا محاسبہ کیجئے کہ،'' میری ذات سے کتنے ہی لوگوں کے شرعی حقوق وابستہ ہیں؟۔۔۔۔۔۔مثلاًماں باپ ، بچوں، بیوی ، قرابت داروں ، پڑوسیوں، عام مسلمانوں، مرشد ، استاذ ، شاگرد ،اورماتحت لوگوں کے حقوق۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس! میں ان کے حقوق کماحقہ ادا کرنے میں ناکام رہا ، میں سعادت مند بیٹا، شفیق باپ ،مثالی شوہر ، بے ضرر پڑوسی ، مرید ِ صادق، کامیاب استاذ ، مثالی طالب العلم اور بہترین نگران بننے