Brailvi Books

فکرِ مدینہ
136 - 166
عاجزی،حلم، عفو ودرگزر، اللہ تعالیٰ کا خوف ، عشق ِ رسول ا، تعظیم ِرسول ا ۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔ ''بُرے اوصاف نے ''مثلاً تکبر، حسد ، ریاء ، بغض، کینہ ، غرور، شماتت، بدگمانی ، اپنی ذات کے لئے غصہ کرنا، گناہوں کی حرص، نامحرم عورتوں کی محبت،حب ِ جاہ ، مال کی محبت، بخل ، مکر ، خیانت، خود پسندی، غفلت، بے حیائی وغیرہ۔۔۔۔۔۔

    اے بندے غور کر ! تو اپنے اس جسم کو جسے مخلوق دیکھتی ہے کس طرح بناسنوار کر رکھتا ہے،اور یہ دل جو رب تعالیٰ کی نظر ِ رحمت کا مقام ہے ،اس کی صفائی کی تجھے کوئی فکر نہیں ۔۔۔۔۔۔ تو کب تک اپنے دل کویونہی نجاستوں سے آلودہ رکھے گا ؟۔۔۔۔۔۔ کب تُو اسے پاک کر کے اس آئینہ کی مثل بنائے گا جس میں نور ِ الٰہی ل کا جلوہ نظر آتا ہو؟۔۔۔۔۔۔ یاد رکھ! تیرے بدن کی اصلاح کے لئے دل کی اصلاح بہت ضروری ہے ،۔۔۔۔۔۔ اگر تُو اپنے دل کی طرف سے یونہی شکارِ غفلت رہا تو تیرے اعضاء اسی طرح گناہوں میں مشغول رہیں گے اوراس کا وبال تیرے سر پڑے گا ،۔۔۔۔۔۔ اس لئے ابھی سے اصلاح ِ دل کی کوشش میں مصروف ہوجا، اللہ تعالیٰ تیرا حامی وناصر ہو ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
اللہ ہمیں کرد ے عطا قفل ِ مدینہ
اللہ عزوجل ہمیں کردے عطا قفل مدینہ 

ہرایک مسلماں لے لگا قفل مدینہ 

یارب نہ ضرورت کے سواء کچھ کبھی بولوں!

اللہ عزوجل  زباں کا ہو عطا قفل ِمدینہ
Flag Counter