کبھی اپنے دل کو فکر ِ مدینہ کا محور بنائیں اور خود سے یوں مخاطب ہوں ، ''اے شخص ! تیرے دل کو پورے جسم کا بادشاہ بنایا گیا اور تجھے اس پر محاسب مقرر کیا گیا،یہ تو وہ شے ہے کہ اگر یہ درست رہے تو پورا جسم درست رہے گا اور اگر یہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، ۔۔۔۔۔۔ پس تُو دیکھ کہ کس طرح کے اوصاف نے تیرے دل میں بسیرا کر رکھا ہے ،'' اچھے اوصاف نے'' مثلاً گناہ پر نادم ہونا، مصیبت پر صبرکرنا ، قضاء الٰہی پر راضی رہنا ، نعمت کا شکر کرنا، خلوص، حسن ِ ظن، مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ ، اللہ ورسول (ل وا) کی خاطر کیا جانے والا غصہ ، نیکیوں کی حرص،توکل، تفویض،حسن ِ نیت، حیاء،