Brailvi Books

فکرِ مدینہ
133 - 166
احسان کرنے کے بعداسے جتانے،ناشکری کے کلمات بولنے ، فضول سوالات کرنے ، کسی مسلمان کے عیوب اچھالنے میں استعمال کیا ....یا ....پھر یہ تلاوت کرنے ، ذکر ُاللہل کرنے ، درود ِ پاک پڑھنے ،نعت شریف پڑھنے ،رب تعالیٰ کا شکر کرنے، علمِ دین سکھانے ، نیکی کی دعوت دینے ، کسی کے عیب چھپانے ، دو مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے ،کسی کی غم خواری کرنے، کسی کو غیبت کرنے سے روکنے ، سچ بولنے میں مشغول رہی ؟۔۔۔۔۔۔

    اے بندے یاد رکھ ! اگر تم نے اس زبان کے غلط وفضول استعمال پر قابو نہ پایا تو جب کل بروزِ قیامت تجھے کہا جائے گاکہ اپنے نامہ اعمال کو اپنے رب ل کی بارگاہ میں تمام مخلوق کے سامنے پڑھ کر سناؤ،۔۔۔۔۔۔ تو حشر کی خوفناک فضاء میں مغلظات وفضولیات سے بھر پور نامہ اعمال کو ایسی حالت میں پڑھنا کہ پیاس کی شدت سے دم نکلا جارہا ہو، بھوک سے کمر ٹوٹ رہی ہو ، اور تیرے متعلقین بھی اسے سن رہے ہوں ،یقینا مشکل ترین امر ہے،۔۔۔۔۔۔اس لئے سابقہ خطاؤں پر توبہ کر لے اور آئندہ کے لئے زبان کو غلط استعمال سے بچانے کے لئے زبان کا قفل ِ مدینہ لگا لے ۔اللہ تعالیٰ تیرا حامیئ وناصر ہو۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔۔۔۔۔۔''
 (5) کانوں کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    اپنے کان (یعنی سماعت ) کا محاسبہ کرتے ہوئے اس طرح فکر ِ مدینہ کیجئے کہ ،''اللہ تعالیٰ نے تجھے سماعت کی دولت عطا فرمائی، ان کانوں کی برکت سے تو اپنے تمام معاملات کس قدر آسانی سے سرانجام دیتا ہے ،۔۔۔۔۔۔غور کر! تونے اس نعمت کو کن کاموں میں مصروف رکھا ؟۔۔۔۔۔۔ تلاوت ونعت وبیان سننے ، علمِ دین سیکھنے اور نیکی کی دعوت سننے
Flag Counter