کسی حرام وفضول شے پر نہ ٹھہرتیں ،لیکن افسوس !یہ پاکیزہ نہ رہ سکیں ،۔۔۔۔۔۔آج تجھے حرام شے دیکھنے میں بہت لذت محسوس ہوتی ہے لیکن یاد رکھ! نگاہِ حرام سے پر ہونے والی ان آنکھوں میں ایک دن آگ بھری جائے گی ،۔۔۔۔۔۔ تیری آنکھیں تو اتنی نازک ہیں کہ چھوٹا سا مچھر یا ریت کا کوئی ذرّہ اِن میں جاپڑے تو تکلیف کی شدت تیرے پورے وجود کو تڑپا کر رکھ دیتی ہے ، دھوپ سے اچانک کسی بند کمرے میں چلے جانے پر تمہاری دیکھنے کی صلاحیت اتنی کمزور ہوجاتی ہے کہ قریب پڑی شے بھی دکھائی نہیں دیتی ،۔۔۔۔۔۔
(پھر اس طرح ارادہ کریں )آہ صد آہ ! اگران آنکھوں کو بروزِ قیامت عذاب دیا گیا تو میرے پورے وجود کو یہ عذاب جھیلنا ہوگا ،۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں ! میں ان آنکھوں کو عذاب سے بچانے کی جستجو میں لگ جاؤں گا ، انہیں حرام تو حرام ، مباح شے کو دیکھنے سے بچاؤں گا کہ کہیں حرام میں نہ جاپڑیں ، میں آج کے بعد آنکھوں کا مضبوط قفل مدینہ لگاؤں گا ۔ ان شاء اللہ عزوجل ''