Brailvi Books

فکرِ مدینہ
132 - 166
کسی حرام وفضول شے پر نہ ٹھہرتیں ،لیکن افسوس !یہ پاکیزہ نہ رہ سکیں ،۔۔۔۔۔۔آج تجھے حرام شے دیکھنے میں بہت لذت محسوس ہوتی ہے لیکن یاد رکھ! نگاہِ حرام سے پر ہونے والی ان آنکھوں میں ایک دن آگ بھری جائے گی ،۔۔۔۔۔۔ تیری آنکھیں تو اتنی نازک ہیں کہ چھوٹا سا مچھر یا ریت کا کوئی ذرّہ اِن میں جاپڑے تو تکلیف کی شدت تیرے پورے وجود کو تڑپا کر رکھ دیتی ہے ، دھوپ سے اچانک کسی بند کمرے میں چلے جانے پر تمہاری دیکھنے کی صلاحیت اتنی کمزور ہوجاتی ہے کہ قریب پڑی شے بھی دکھائی نہیں دیتی ،۔۔۔۔۔۔

    (پھر اس طرح ارادہ کریں )آہ صد آہ ! اگران آنکھوں کو بروزِ قیامت عذاب دیا گیا تو میرے پورے وجود کو یہ عذاب جھیلنا ہوگا ،۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں ! میں ان آنکھوں کو عذاب سے بچانے کی جستجو میں لگ جاؤں گا ، انہیں حرام تو حرام ، مباح شے کو دیکھنے سے بچاؤں گا کہ کہیں حرام میں نہ جاپڑیں ، میں آج کے بعد آنکھوں کا مضبوط قفل مدینہ لگاؤں گا ۔ ان شاء اللہ عزوجل ''
 (4) زبان کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    اپنی زبان کے بارے میں اس طرح فکر ِ مدینہ کریں کہ ،''اے شخص ! تجھے اللہ تعالیٰ نے زبان جیسی نعمت عطا فرمائی جس کے سبب تو کلام کرنے پر قادر ہوا ،۔۔۔۔۔۔ لیکن ذراسوچ! کہ اب تک تم نے اس زبان کا کیا استعمال کیا ؟ ۔۔۔۔۔۔ کیا اسے غیبت کرنے ، چغلی کھانے ، گالی دینے ، فحش کلامی کرنے ،(معاذ اللہ عزوجل )کفر بکنے،جھوٹ بولنے، کسی پرلعنت کرنے،کسی کو برائی کی ترغیب دینے ، اپنے ماں باپ کو ستانے ، مسلمانوں کی دل آزاری کرنے ،ناجائز غصے کا اظہار کرنے ،دو مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے،جھوٹے وعدے کرنے، کسی کا نام بگاڑنے،بدگمانی پر مشتمل الفاظ بولنے، تہمت لگانے،کسی پر
Flag Counter