Brailvi Books

فکرِ مدینہ
131 - 166
لیکن اس وقت سوائے پچھتانے کے کچھ حاصل نہ ہو گا ،۔۔۔۔۔۔ اے شخص ! اپنی بحال سانسوں کو غنیمت جان اور سابقہ خطاؤں پر اپنے مالک ل سے معافی مانگتے ہوئے سچی توبہ کر لے اوروقت کی قدر پہچانتے ہوئے پھر اپنے رب ل کو راضی کرنے والے کاموں میں مشغول ہوجا۔اللہ تعالیٰ تیرا حامیئ وناصر ہو ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔۔۔۔۔۔''
 (3) آنکھوں کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    اسی طرح کبھی اپنے جسم کے اعضاء مثلاً آنکھوں کا محاسبہ کرتے ہوئے خود سے یوں مخاطب ہوکر فکر ِ مدینہ کریں کہ ،'' اے بندے!تجھے اللہ عزوجل نے آنکھوں جیسی نعمت عطا فرمائی جن کی مدد سے تُوجو چاہے دیکھ سکتا ہے ، ۔۔۔۔۔۔ لیکن ذرا سوچ کہ تو نے انہیں کس طرح استعمال کیا ؟۔۔۔۔۔۔'' دُرُست'' مثلاً راستہ طے کرنے ، علم ِ دین پڑھنے، تلاوتِ قرآن کرنے ، کعبہ  مشرفہ ، گنبد خضریٰ ، مقامات مقدسہ ، والدین اور نیک لوگوں کی زیارت کرنے میں ان سے مدد لی ....یا .... (معاذ اللہ عزوجل )''غلط ''مثلاً اجنبی عورتوں کو دیکھنے ،امردوں(یعنی بے ریش لڑکوں) کو بشہوت دیکھنے ، کسی کا کھلا ہو سِتردیکھنے ، فلمیں ڈرامے دیکھنے ، اخبارات میں چھپنے والی نامحرم عورتوں وغیرہ کی تصاویر دیکھنے، خواتین کی تصاویر پر مشتمل بڑے بڑے اشتہاری بورڈ دیکھنے ،کسی کا خط یا تحریر بلااجازت پڑھنے ، کسی کے گھر جھانکنے کے لئے،یا ادھر ادھر فضول دیکھنے میں ان سے مدد لی ؟۔۔۔۔۔۔

    افسوس ! کہ تجھے توان آنکھوں کو پاکیزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا ،۔۔۔۔۔۔تجھے تو اپنے رب ل، اس کے حبیب ا، صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار ، تابعین ، دیگر اکابرین اور جنت کی زیارت کا مشتاق ہونا چاہیے تھا،اس کے لئے ضروری تھا کہ تیری نگاہیں دنیا میں
Flag Counter