Brailvi Books

فکرِ مدینہ
130 - 166
فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
 (2) اوقاتِ زندگی کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    کبھی اوقاتِ زندگی کے استعمال پر اپنے آپ کا اس طرح محاسبہ کریں ، ''اے شخص !ذرا سوچ تونے لمحاتِ زندگی کے انمول ہیروں کو کہاں صرف کیا ؟۔۔۔۔۔۔ کیا رب تعالیٰ کی اطاعت والے کاموں مثلاً نماز، روزے ، تلاوتِ قرآن ، ذکرودُرود، کسب ِ حلال، صدق ِ کلام ،حفاظتِ نگاہ ، قلتِ کلام ،خدمتِ والدین ،خیر خواہی ئ مسلمین میں اپنا وقت گزارا ...یا... اپنے مالک ل کو ناراض کردینے والے کاموں مثلاً نمازوں اور روزوں کو قضا کردینے ، داڑھی منڈانے ، فلمیں ڈرامے دیکھنے ، ماں باپ کا دل دکھانے ، گالیاں بکنے ، جھوٹ بولنے ، چغل خوری اور غیبت کرنے ، بدنگاہی کرنے ، فحش کلامی کرنے ، مسلمان کو بلااجازتِ شرعی تکلیف دینے،حرام کمانے میں اپنا وقت برباد کر ڈالا؟۔۔۔۔۔۔

                              دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی

                              لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے 

    اے شخص !تجھے یہ وقت قبروحشر کے اندوہناک حالات میں سلامتی کے حصول کی کوشش کے لئے دیا گیاتھا ،۔۔۔۔۔۔لیکن افسوس! تُونے اپنے اکثر لمحات زندگی کو ضائع کردیا ،۔۔۔۔۔۔ اگرتُو پوری زندگی بھی اس نقصان پرآنسو بہاتا رہے تو اس کا مداوا نہیں ہوسکتا،۔۔۔۔۔۔ اور اگر تُو نے اپنے طورطریقے نہ بدلے تویاد رکھ کہ عنقریب تجھے دی گئی یہ مہلت ختم ہوجائے گی اور تجھے موت کے گھاٹ اترنا پڑے گا ،۔۔۔۔۔۔ اندھیری قبر تیرا ٹھکانہ اور مٹی تیرا بچھونا ہوگی،۔۔۔۔۔۔ پھر تو وقت کے ان انمول ہیروں کو ضائع کرنے پر پشیمان ہوگا
Flag Counter