Brailvi Books

فکرِ مدینہ
129 - 166
حصول کے لئے کیا تھا یا کسی اور غرض سے؟ ۔۔۔۔۔۔اور کیا رضائے الٰہی عزوجل کے حصول کی یہ نیت دوران عمل اور اس کی تکمیل کے بعد بھی قائم رہی تھی یا نہیں ؟۔۔۔۔۔۔کیا تونے اس عمل کے کرنے میں تمام تر شرعی تقاضوں کو پورا کیا تھا ؟۔۔۔۔۔۔اور کہیں تُو اس عمل کو اپنا کمال تو نہیں سمجھتا ؟اگر تیرے رب لنے اس عمل کو شرف ِ قبولیت نہ بخشا توتیرا کیا بنے گا؟۔۔۔۔۔۔

    اورجو عمل گناہ پرمشتمل ہو تو اس طرح سے اپنے نفس کو مخاطب کریں ، ''اے نفس!تجھ پر افسوس ہے کہ تو یہ جاننے کے باوجود اس گناہ میں ملوث ہوگیا کہ'' اللہ عزوجل تجھے دیکھ رہا ہے ''۔۔۔۔۔۔،ذرا سوچ! اگر تیرا کوئی خادم ہو اور وہ تیرے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے تو تُو طیش میں آجائے اور اسے سزا دینے سے دریغ نہ کرے پھرتُو اپنے رب ل کے قہر وغضب سے کس طرح بچ سکے گا ؟۔۔۔۔۔۔ کیا تو اس گناہ کے نتیجے میں ملنے والی سزا برداشت کر سکتا ہے ؟ذرا کبھی جلتی ہوئی موم بتی کی لو پر ہاتھ رکھ کر اپنی حیثیت تو جان۔۔۔۔۔۔، افسوس! کہ تُوبیماری کے دوران کسی ڈاکٹر یا حکیم کی نقصان دہ قرار دی ہوئی اشیاء سے توبے حد پرہیز کرتا ہے لیکن اپنی آخرت کونقصان پہنچانے والے گناہوں سے بچنے کی سوچ بنتی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔،تُو سردی سے بچاؤکا انتظام اس کے آنے سے پہلے کر لیتا ہے، لیکن افسوس! موت آنے سے پہلے پہلے آخرت کی تیاری میں کیوں مشغول نہیں ہوتا؟۔۔۔۔۔۔اے کاش! تجھے یہ باتیں سمجھ آجائیں اور تو تائب ہو کر اپنے رب ل کی فرماں برداری والے کاموں میں مصروف ہوجائے ۔ ہمت کر! اور اس جسم کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچانے کے لئے میرے ساتھ تعاون کر ، اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر عطا