فکر ِ مدینہ کے دوران ہمیں جن امور پر غور وفکر کرنا چاہے ، ان کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں ،
(1) وہ کام ہم کر چکے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔
(2) وہ کام ہم کرنے ہی والے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔
(3) وہ کام ہم آنے والے وقت میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں گے ۔
اور ان میں سے ہر کام یاتو
نیکی ہوگا ...یا...گناہ ہوگا...یا... مباح ہوگا۔
پھرہر کام کے بارے میں ہم اپنے نفس کا دوطرح سے محاسبہ کرسکتے ہیں ،
(i) تم نے یہ کام کیوں کیا ،یا کیوں کررہے ہو؟ ...اور...
(ii) تم نے یہ کام کس طرح کیا ،یا کس طرح کرو گے ؟۔۔۔۔۔۔
محترم اسلامی بھائیو! مذکورہ تقسیم کی بناء پر ہماری فکر ِ مدینہ کبھی محض ایک عمل کے بارے میں ہوگی اورکبھی ایک سے زائد مختلف انواع کے اعمال کے بارے میں، کبھی سابقہ زندگی کے بارے میں توکبھی موجودہ زندگی کے بارے میں اور کبھی آئندہ زندگی کے بارے میں ہوگی۔ظاہرہے کہ اس تقسیم کے نتیجے میں ہمیں بیک وقت بہت سے اعمال کا محاسبہ اور وہ بھی زبانی کرنا ہوگا جو کہ بے حد مشکل امر ہے ۔ اس سلسلے میں