Brailvi Books

فکرِ مدینہ
125 - 166
میدان ہی ہے اس لئے شاید وہ تختی بھی ضائع ہوجائے گی۔ ''

    بالآخرامیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے فرمایا کہ'' جہاں واقعی ستون بنا نا ہے اس جگہ پر ہتھوڑے مار کر کھودنے کی رسم ادا کرلی جائے اوراس کو ''سنگِ بنیاد رکھنا'' کہنے کے بجائے ''تعمیر کا آغاز'' کہا جائے۔'' چنانچہ۲۲ ربیع النور شریف ۱۴۲۶؁ھ یکم مئی 2005؁ء بروز اتوار ،آپ کی خواہش کے مطابق 25سیِّد مَدَنی منوں نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے مخصوص جگہ پر ہتھوڑے چلائے ، آپ خود بھی اس میں شریک ہوئے اور اس نرالی شان سے فیضان مدینہ (صحرائے مدینہ ، ٹول پلازہ، سپر ہائی وے باب المدینہ کرچی) کے تعمیری کام کا آغاز ہوا۔

سنت کی بہار آئی فیضان مدینہ میں    رحمت کی گھٹا چھائی فیضان مدینہ میں

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )

پیارے اسلامی بھائیو!

        اب تک ذکر کردہ تفصیل سے ہم بخوبی جان گئے کہ ہماری زندگی اور موت کا مقصد ہمارے اعمال کی آزمائش ہے، ۔۔۔۔۔۔یہ تمام اعمال جمع کئے جارہے ہیں اور بروزِ قیامت انہیں ہمارے سامنے لایا جائے گانیز فرشتے، ان کے صحیفے، ہمارے اعضاء، زمین اور یہ دن رات ان پر گواہ ہوں گے، ۔۔۔۔۔۔قرآنِ عظیم ، احادیث مبارکہ میں نیز ہمارے اسلاف کی جانب سے ہمیں یہ تاکید کی گئی ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہم اپنی آخرت کے لئے کس قسم کے اعمال جمع کروا رہے ہیں ،۔۔۔۔۔۔اور یہ کہ ہمارے اسلاف خود بھی فکر ِمدینہ میں مشغول رہا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

    اب ہمیں چاہیے کہ ہم دل دہلا دینے والے عذاباتِ دوزخ سے پناہ حاصل