| فکرِ مدینہ |
روز پہلے ای میل پر نگران ِ شوریٰ کے نام اس طرح پیغام بھجوایا کہ بچوں اور آپ کے اصرار پر میں نے پاکستان آنے کی حامی تو بھر لی اور فلائٹ میں سیٹیں بھی بُک کروائی جاچکی تھیں ،لیکن پھر میں نے اپنا محاسبہ کیا کہ پاکستان جانے میں لذتِ نفس ہے کہ وہاں عقیدت مندوں کے ہجوم اور دیوانوں کی بھیڑ میں نفس کا مزہ توپوشیدہ ہے مگر دینی اعتبار سے کوئی خاص فائدہ سمجھ نہ آسکا جبکہ یہاں رہ کر تحریری کام کرنے میں الحمدللہ عزوجل دین کا عظیم فائدہ حاصل ہونے کی امید ہے ۔ لہذا میں نے جہاز کے ٹکٹ بھی کینسل کروا دئيے ہیں اور اب یہیں گھر والوں سے دور رہ کر دین کاکام کرتے ہوئے عید مناؤں گا ۔'' (بتغیر ما) (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(41) سنگ ِ بنیاد رکھتے وقت ''فکر ِ مدینہ''....
جب شیخ ِ طریقت امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی کی خدمت میں صحرائے مدینہ(باب المدینہ کراچی) میں فَیضانِ مد ینہ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ'' سنگ ِبنیاد میں عموماً کھودے ہوئے گڑھے میں کسی شخصیت کے ہاتھو ں سے سیمنٹ کا گارا ڈلوا دیا جاتا ہے، بعض جگہ ساتھ میں اینٹ بھی رکھوالی جاتی ہے لیکن یہ سب رسمی ہوتا ہے ، بعد میں وہ سیمنٹ وغیرہ کا م نہیں آتی ۔ مجھے تو یہ اِسراف نظر آتا ہے اور اگر مسجد کے نام پر کئے ہوئے چندے کی رقم سے اس طرح کا اسراف کیا جائے تو توبہ کے ساتھ ساتھ تاوان یعنی جو کچھ مالی نقصان ہوا وہ بھی ادا کرنا پڑیگا۔'' ان سے عرض کی گئی،''ایک یادگاری تختی بنوا لیتے ہیں ،آپ اس کی پردہ کشائی فرمادیجئے گا۔''توفرمایا !'' یہ اندازبھی غلط ہے کیونکہ پردہ کشائی کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے میں فرق ہے۔ پھر چونکہ ابھی