Brailvi Books

فکرِ مدینہ
123 - 166
کاش! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا

قبر و حشر کا سب غم ختم ہوگیا ہوتا

                آ کے نہ پھنسا ہوتامیں بطورِ انساں کاش!

                کاش! میں مدینے کا اونٹ بن گیا ہوتا

                                اونٹ بن گیاہوتا اور عیدِ قرباں میں

                               کاش دستِ آقا سے  نَحْر ہوگیا ہوتا

( ارمغانِ مدینہ ص ۱۲۷ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

    بعدِ قربانی آپ محراب کے پیچھے واقع اپنے مکتب میں پہنچ کر دیوار سے ٹیک لگا کرزار و قطار رونے لگے۔

    بعدِ نمازِعصر ایک اسلامی بھائی نے جب مذکورہ اشعار پڑھنا شروع کئے تو آپ دَامَتْ بَرَکا تُہُمُ العا لِیہ پر انتہائی رقّت طاری ہوگئی اورآپ کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ وہاں موجود تقریباً ہر اسلامی بھائی آپ کی اس کیفیت کو دیکھ کر رونے لگاجس سے پوری فضا سوگوار ہوگئی یہاں تک کہ نمازِ مغرب کا وقت ہوگیا۔

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (40) مدنی کام کے لئے''فکر ِ مدینہ''....
    شیخ طریقت ،امیر اہل سنت، علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ ۱۴۲۴؁ھ میں عیدالاضحی کے موقع پر ملک سے باہر تھے ۔ اپنے شہزادوں حاجی احمد عبید رضا ، حاجی بلال رضا عطاری اور نگران مجلس شوریٰ دامت فیوضھم کے بے حد اصرار پر آپ نے عیدالاضحی پاکستان میں منانے کی حامی بھر لی لیکن عید سے صرف چند
Flag Counter