Brailvi Books

فکرِ مدینہ
122 - 166
 (38) قیمتی لباس کے بارے میں ''فکر ِ مدینہ ''
    امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتھم العالیہ ہمیشہ سادہ اور سفید لباس استعمال فرماتے ہیں ۔ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ،''میں عمدہ لباس پہننا پسند نہیں کرتا حالانکہ میں اللہ عزوجل کے کرم سے بہترین لباس پہن سکتا ہوں ۔ مجھے تحفے میں بھی لوگ نہایت قیمتی اورچمکدار قسم کے کپڑے دے جاتے ہیں لیکن میں خود پہننے کی بجائے کسی اور کو دے دیتا ہوں کیونکہ ایک تو میرے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے سادگی عطا فرمائی ہے ، دوسرا میرے پیچھے لاکھوں لوگ ہیں اگر میں مہنگے ترین لباس پہنوں گا تو یہ بھی میری پیروی کرنے کی کوشش کریں گے ۔ مالدار اسلامی بھائی تو شایدپیروی کرنے میں کامیاب ہوبھی جائیں لیکن میرے غریب اسلامی بھائی کہاں جائیں گے اس لئے میں اپنے غریب اسلامی بھائیوں کی محبت میں ایسے لباس پہننے سے کتراتا ہوں ۔''

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (39) وقتِ قربانی ''فکر ِمدینہ''
ماہ ذوالحجہ ۱۴۲۳؁ھ میں عید الاضحیٰ کے موقع پرامیراہلسنت دَامَتْ بَرَکا تُہُمُ العالِیہ کی طرف سے گائے اور اونٹ کی قربانی دی گئی۔قربانی کا انتظام دعوت اسلا می کے عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ (کراچی) کے باہر کیا گیا تھا۔جب اس اونٹ کو نحر اور گائے کو ذبح کیا گیاتو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ یکایک آپ کے چہرے پر اداسی طاری ہوگئی اور آپ بے حد غمگین نظر آنے لگے(غالباًآپ اپنے کلام کے ان اشعارکے تحت،ایمان کی حفاظت اور موت کی سختیوں سے متعلق ''فکرِمدینہ ''میں مشغول تھے۔)
Flag Counter