| فکرِ مدینہ |
علیہ والہ وسلم۔ ٭ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم ٭قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ ،شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(37) مسواک سے متعلق'' فکرِمدینہ''
امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکا تُہُمُ العا لِیہ کے کُرتے میں سینے کی طرف دو جیبیں ہوتی ہیں۔مسواک شریف رکھنے کیلئے آپ اپنے الٹے ہاتھ (یعنی دل کی جانب)والے جیب کے برابر ایک چھوٹی سی جیب بنواتے ہیں۔اس کا سبب آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ''یہ آلہ ادائے سنّت میرے دل سے قریب رہے۔ ''
اس کے برعکس دُنیوی دولت سے بے رغبتی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ کو دیکھا گیا کہ جب کبھی ضرورتاً جیب میں رقم رکھنی پڑے توسیدھے ہاتھ والی جیب میں رکھتے ہیں۔ اس کی حکمت دریافت کرنے پر فرمایا'' میں الٹے ہاتھ والی جیب میں رقم اسلئے نہیں رکھتا کہ دنیوی دولت دل سے لگی رہے گی اوریہ مجھے گوارا نہیں، لہٰذا میں ضروت پڑنے پر رقم سیدھی جانب والی جیب میں ہی رکھتا ہوں۔''
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )