انتہائی تجسس کے ساتھ اس پُل کی طرف متوجہ ہوئے اورامیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ کی بھی توجہ دیکھنے کی طرف مبذول کروانا چاہی ۔اس پر آپ نے فرمایا،'' اس پل کو دیکھ کر کیا لینا ہے؟ ''پھر شعر پڑھا۔
دیکھنا ہے تو مدینہ دیکھئے قصرِ شاہی کا نظارہ کچھ نہیں
اس پر اُس اسلامی بھائی نے تعجب کے ساتھ عرض کی،''کیا سیر و تفریح کرنا شرعاً منع ہے؟ یعنی اس طرح کے پُل وغیرہ تفریحاً نہیں دیکھ سکتے؟''توآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العا لِیہ نے ارشاد فرمایا کہ '' اگرمُنْہِیّاتِ شرعِی نہ ہوں تو اس طرح کے نظارے اگرچہ شرعاً مباح ہیں مگر بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، آنکھوں کومباح یعنی جائزخوشنما نظاروں کے دیکھنے سے بھی بچاؤ اور ان کو قید میں رکھو اگر ان کو آزاد چھوڑو گے تو پھر یہ حرام کی طرف دیکھنے کا بھی مطالبہ کریں گی۔ امامِ اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حدائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں۔
پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں دشتِ طیبہ کے خار پھرتے ہیں''
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )