Brailvi Books

فکرِ مدینہ
119 - 166
دیا ،''کوئی نہیں ۔'' پھر آپ نے دریافت کیا کہ ''اگر اس پمفلٹ میں ذکرکردہ شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے مجھے یہ پمفلٹ دیا اور میں نے اسے پڑھا تو وہ ناراض ہوگا یا خوش ؟''اس نے جواب دیا ،''ناراض ۔'' تو آپ نے فرمایا کہ جس پمفلٹ کے پڑھنے میں سراسر نقصان ہی نقصان ہو ، اس پمفلٹ کو نہیں پڑھنا چاہے اور وہ پمفلٹ ضائع کردیا ۔ 

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (36) سرکارِ مد ینہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نامِ مبا رَ ک لیتے وقت ''فکر مد ینہ''
    امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب اعلیٰ و دنیوی منصب پر فائز کسی شخصیت کا نام لیا جائے تو بے شمار موزوں و غیر موزوں اَلقابات ادا کئے جاتے ہیں۔مگر جب میٹھے میٹھے شہد سے میٹھے آقا صلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نامِ والا لیا جائے تو صرف حضرت محمد صلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہا جائے یہ کیسے مناسب ہے ؟

    لہٰذا آپ جب بھی مکی مدنی آقا صلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بیانات وغیرہ میں تذکرہ مبارک فرماتے ہیں تو آپ کا منفرد مَدَنی انداز کچھ یوں ہوتا ہے۔مَثَلاً

٭نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر، آمنہ کے پِسَر، حبیبِ داوَر صلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم

٭حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم

٭ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالی علیہ
Flag Counter