Brailvi Books

فکرِ مدینہ
117 - 166
شیشی اٹھائی لیکن اس خیال سے پھر واپس رکھ دی کہ اگر میں صرف خوشبو حاصل کرنے کیلئے عطر لگاؤں تو خوشبو تو ملے گی مگر سنت کی نیت حاضرنہ ہونے کی بنا پر سنت کے ثواب سے محرومی رہے گی۔ لہٰذا آپ نے دوبارہ سنت کی نیت حاضرہونے پر عطر کی شیشی سے خوشبو استعمال فرمائی۔

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (33) نماز پڑھتے وقت ''فکر ِمدینہ''
    امیرِ اہل ِسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ فرماتے ہیں'' میری کوشش ہوتی ہے کہ جب نماز کیلئے تیاری ہو توتعظیمِ نماز کی نیت سے خوشبو استعمال کرکے نماز پڑھوں۔''

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (34) مباح مناظر دیکھنے کے بارے میں ''فکر ِمدینہ''
    شہزادہ عطار حاجی احمد عبید رضا عطاری مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ'' عَرَب اَمارات کے قیام کے دوران ۱۲ جمادی الاولٰی ۱۴۱۸؁ھ دبئی سے کراچی ٹیلی فونک بیان کرکے امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ جب اپنی قیام گاہ کی طرف جارہے تھے اس وقت میں( عبید رضا ابن عطارؔ) بھی ہمراہ تھا ۔راستے میں ہماری گاڑی سمندر کے قریب سے ہوتی ہوئی''جسرالمکتوم''(Al Maktoom Bridge)کے قریب سے گزری تو ایک اسلامی بھائی نے جسر المکتوم کا تعارف کرواتے ہوئے بتایاکہ'' سمندر پر بنے ہوئے اس پل پرگاڑیوں کی آمدو رفت رہتی ہے ،ضرورتاً ٹریفک روک کر اس کو اوپر اٹھا دیا جاتا ہے اور اسکے نیچے سے سفینے گزرتے ہیں۔''یہ سن کر گاڑی پر سوار اسلامی بھائی
Flag Counter