| فکرِ مدینہ |
میں وقت تو زیادہ صرف ہوتا ہے مگر مذکورہ خدشہ کم ہوجاتا ہے۔'' (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(28) شیطان کو کنکریاں مارتے وقت ''فکر ِمدینہ''
امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتھم العالیہ حج ادا کرنے والے اسلامی بھائیوں کو ''فکر ِ مدینہ''کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ شیطان کو کنکریاں مارتے وقت یہ نیت کرے کہ میں اس شیطان کو کنکریاں مار رہا ہوں جو مجھ پر مسلط ہے ۔ اور اس بات پر اللہ عزوجل کا شکرادا کرے کہ میں شیطان کو جس طرح کنکریاں مار کر ذلیل کر رہاہوں اس نے مجھے اس سے محفوظ رکھا، اور مجھے کنکریاں نہیں ماری جارہی ہیں۔'' (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(29) جانور ذبح کرتے وقت ''فکر ِمدینہ''
اسی طرح آپ مدظلہ العالی نے ارشاد فرمایاکہ'' حج کی قربانی کاجانور ذبح کرتے وقت نیت یہ رکھے کہ میں اپنے نفس کو ذبح کررہاہوں۔'' (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(30) تعریف و مذمت کے وقت'' فکر ِمدینہ''
شیخ طریقت ، امیرِ اہل ِ سنت دامت برکاتھم العالیہ تعریف ومذمت کے وقت ''فکر ِ مدینہ ''کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ'' اگر کوئی تعریف کرے توانسان کو چاہے کہ پھول پڑنے کے بجائے ''استغفار'' کرے اور اگر کوئی مذمت کرے تو تاؤ میں آنے کی بجائے غور کرے کہ یہ صحیح کہہ رہا ہے یا غلط،؟اگر صحیح کہہ رہا ہے تو برا ماننا