| فکرِ مدینہ |
بات نے بے چین کررکھا ہے وہ ہیں ، غیبت کی تباہ کاریاں !۔۔۔۔۔۔
(پھر آپ دَامَتْ بَرَکا تُہُمُ العا لِیہ نے اس موضوع پر ایسی منفرد اور تحقیقی تحریر فرمائی جو ایک رسالے ''غیبت کی تباہ کاریاں''کی صورت اختیار کرگئی۔یہ رسالہ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے حاصل کرکے لوگوں میں تقسیم کرنااور اس کا بغور مطالعہ کرتے رہنا انتہائی مفید ہے۔)
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )(27) دوران طواف'' فکرِمدینہ''
بانی دعوتِ اسلامی ، امیرِ اہل ِ سنت دامت برکاتھم العالیہ کو دیکھا گیا ہے کہ جسم سمیٹے، سرجھکائے اس طرح طواف ِ کعبہ میں مصروف ہوتے ہیں کہ کبھی ایک جگہ قدم رکھتے ہیں تو کبھی دوسری طرف بڑھادیتے ہیں۔ اس دوران آپ کی آنکھوں سے اشکوں کی برسات بھی جاری رہتی ہے۔الغرض ایسا کیف آور منظر ہوتا ہے کہ دیکھنے والے بھی عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس رقت انگیز انداز کو دیکھ کر آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ جب آپ سے یہ انداز اپنانے کی حکمت دریافت کی گئی تو ارشاد فرمایا کہ'' میں اپنے آپ کو اس لئے سمیٹ لیتا ہوں کہ کہیں میرا وجود کسی پاک نفس سے نہ ٹکراجائے کیونکہ ایک روایت کے مطابق بالخصوص ہرشب جُمُعہ کو دنیا کے تمام اولیاء کرام طوافِ کعبہ فرماتے ہیں۔'' (پھر فرمایا )'' میں اپنے قدم کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر اس لئے رکھتا ہوں کہ میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس جگہ میرے شہد سے بھی میٹھے آقا صلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنا مبارک قدم شریف رکھا ہو، شاید اُس جگہ رکھا ہو۔چنانچہ میں اس خیال کے تحت قدم بڑھاتے ہوئے رک کر کسی اور طرف رکھ دیتاہوں۔بس اسی کیفیت میں طواف ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے میں دُور رہ کر طواف کرتاہوں کہ اگرچہ اس