Brailvi Books

فکرِ مدینہ
113 - 166
باندھ دیئے گئے تھے جو ں ہی کھولے گئے آپ نے فوراً قیامِ نَماز کی طرح باندھ لئے ۔ ابھی نیم بے ہوشی طاری تھی،درد سے کراہنے ،چلّانے کے بجائے زَبان پر ذکرودرود اور مُناجات کا سِلسلہ جاری ہوگیا۔یکایک آپ نے پوچھا،''کیا نمازِ فجر کا وقت ہوگیا؟اگر ہوگیا ہے تو مجھے پا ک کردیا جائے ،ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ میں فجر کی نماز پڑھوں گا۔''توآپ کو بتایا گیا کہ ''فجر کو ابھی کافی دیر ہے ۔''

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (26) خط لکھتے ہوئے ''فکر ِمدینہ''
    صفر المظفر ۱۴۲۴؁ھ میں امیر ِ اہل ِ سنت کی طرف سے مرکزی مجلسِ شوریٰ اور دیگر مجالس کے اراکین وغیرہ کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط کی ابتداء میں کی جانے والی ''فکر ِمدینہ'' کا پر تاثیر اندازملاحظہ ہو،۔۔۔۔۔۔

    '')بعدِ سلام تحریر فرمایا(یہ الفاظ لکھتے وقت آہ! میں مدینہ منورہ سے بہت دور پڑاہوں۔ مدینہ منورہ میں رات کے تقریباً تین بج کر ۲۱ منٹ اور پاکستان میں پانچ بج کر ۲۱ منٹ ہوئے ہیں، میں اپنی قیام گاہ کے مکتب میں مغموم و ملول قلم سنبھالے آپ حضرات کی بارگاہوں میں تحریراً دستک دے رہاہوں۔ آج کل یہاں طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں  جو کہ دلوں کو خوفزدہ کردیتی ہیں۔ہائے ہائے! بڑھاپا آنکھیں پھاڑے پیچھا کئے چلا آرہا اور موت کا پیغام سنا رہا ہے۔ مگر نفس اَمارہ ہے کہ سرکشی میں بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔ کہیں ہوا کا کوئی تیز و تند جھونکا میری زندگی کے چراغ کو گل نہ کردے! اے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ زندگی کا چَراغ تو یقینا بجھ کر رہے گا، میرے ایمان کی شمع سدا روشن رہے ۔ یا اللہ ! مجھے گناہوں کے دلدل سے نکال دے ۔ کرم ::::کرم::::کرم!اس وقت جس
Flag Counter