| فکرِ مدینہ |
ہیں مگر ہم تو چھوٹے ہوکر چھوٹ جائیں گے، ان معاملات میں ہماری آخرت میں بھی کوئی پکڑ نہیں کیونکہ ہم ابھی نابالغ ہیں۔ اگر آپ بھی ہماری طرح کی غلطیاں کرتے ہوئے آبروریزی، ریاکاری، جھوٹ اور حسد وغیرہ وغیرہ گناہوں میں پڑیں گے تو ہوسکتا ہے کہ بروزقیامت فرد جرم عائد کرکے جہنم کا حکم سنادیا جائے ۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو آپ کو وہ صدمہ ہوگا کہ دنیا میں خود صدمے نے بھی ایسا صدمہ نہ دیکھا ہوگا۔ ( فیضان رمضان ص ۳۶۲) (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(23) مَدَنی منی کے مہندی والے ہاتھ دِکھانے پر'' فکر ِ مدینہ ''
ایک بار شب عید میلاد النبی صلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایک اسلامی بھائی اپنی ننھی سی مَدَنی منی اٹھا کر لائے ۔ وہ اپنے مہندی سے رنگے ہوئے ہاتھ دکھا کر امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتھم العالیہ کی توجہ چاہ رہی تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ'' اس سے میں نے (فکرِمدینہ کرتے ہوئے)یہی''مَدَنی پھول'' حاصل کیا گویا وہ کہنا چاہتی ہے ، حاجت شرعی کے بِغیر بلا واسطہ یا بالواسطہ(INDIRECT) اپنی خوبیوں کا اظہار بھی حب جاہ یعنی واہ واہ کی خواہش کی علامت ہے ، جو ہم نادانوں کوہی زیب دیتا ہے ۔ ظاہر ہے بچیاں اپنے مہندی سے رنگے ہوئے ہاتھ دکھلا کر یا بچے اپنے نئے کپڑوں وغیرہ کی طرف متوجہ کرکے واہ واہ اور داد و تحسین ہی کے طلبگار ہوتے ہیں مگر اس میں ضمناً بڑوں کے لئے بہت کچھ سامان عبرت ہوتا ہے ۔''پھر فرمایا ،'' آج کل لوگوں کی اکثریت حب ِجاہ میں مبتلا نظر آرہی ہے۔ یعنی اپنی عزت بنانے،شہرت بڑھانے اور واہ واہ پسندی کا مرض عام ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ مساجد و مدارس کی تعمیر اور دیگر نیک کاموں میں بھی اپنی نیک نامی یعنی