غور طلب بات! آپ شاید سوچ میں پڑگئے ہوں گے کہ ناسمجھ بچے اتنے سارے عنوانات پر کس طرح درس دے سکتے ہیں ! ان دُروس کا راز یہ ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتیں کرنے لگے جس سے مَدَنی ذہن رکھنے والا انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ مثلاً انہوں نے ضرورت سے کہیں زیادہ کھانا نکالا، کچھ کھایا، کچھ گرایا اور کچھ رکابی ہی میں چھوڑ دیا۔ ان کی اس حرکت سے یہ سیکھنے کو ملا کہ اپنی پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا ڈال لینا یہ حرص و طمع کی علامت اور نادان لوگوں کا کام ہے ، سمجھدار آدمی ایسا نہیں کرسکتا۔ گرا ہوا کھانا یوں ہی چھوڑدینا کہ پھینک دیاجائے یہ اِسراف ہے ، کھا کر برتن چاٹ لینا سنت ہے ، اسراف کا ارتکاب اور سنت کے خلاف کام کرنا عقلمندوں کا نہیں نادانوں کا کام ہے کیوں کہ بچے نادان ہی ہوتے ہیں ۔ منے نے 7upکی ڈیڑھ لیٹر کی بوتل میں سے اپنے لئے پورا گلاس بھرلیا تو اس پر منی احتجاج کرنے لگی یہاں تک کہ پہلے بوتل اٹھا کر میرے قریب رکھی مگر پھر اطمینان نہ ہوا تو وہاں سے بھی اٹھا کر کمرے کے باہر کسی اور کی تحویل میں دے آئی۔ اِس ''جنگ'' کے ذریعے منے نے حرص پر درس دیا اور منی نے حسد پر۔ چونکہ دونوں میں ٹھن گئی تھی لہٰذا اب ایک دوسرے کے ''عیوب'' اچھالنے لگے ، اور گویا یوں سمجھا رہے تھے کہ دیکھئے ! ہم نادان ہیں اس لئے فضول گوئی ، حسد، آبروریزی، بے جا لڑائی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے اور ایک دوسرے کے پول کھولتے ہیں ۔
اگر دانا کہلانے والا شخص بھی ایسی حرکات کا ارتکاب کرے وہ بے وقوف ہوا یا نہیں؟ ٹھیک ہے ہم اپنے منہ میاں مٹھو بھی بن رہے ہیں ، اپنی ہی زبان سے اپنے فضائل بھی بیان کررہے ہیں ، ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتو ں کو بھی اچھال رہے