| فکرِ مدینہ |
دامت برکاتھم العالیہ کو دیکھا گیا کہ اسے ''کھچڑا ''کہتے ہیں ۔ جب آپ سے اس کی حکمت دریافت کی گئی تو ارشاد فرمایا ،''حلیم ''اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام بھی ہے اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں کھانے کی چیز کو اللہ عزوجل کے صفاتی نام سے پکاروں۔ (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(21) تقریب ِحفظ القرآن سے متعلق'' فکر ِمدینہ''
آج کل بچہ یا بچی اگر حفظِ قرآن مکمل کرلے تو اسکے لئے شاندار تقریب کی جاتی ہے۔ جس میں اس کو گُل پوشی و گل پاشی اور تحائف و تعریفی کلمات سے خوب نوازا جاتا ہے۔ امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی اس قسم کی تقریبات کا انعقاد کرنے والوں کو ''فکر ِ مدینہ'' کی دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں ،
''گھر والے شاید سمجھتے ہوں گے ہم حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ مگر معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بچہ بلند حوصلہ تھا جبھی تو حافظ بنا۔ ہاں حفظ شروع کرواتے وقت حوصلہ افزائی کی واقعی ضروت ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ پڑھ لے۔ بہر حال حافظ مَدَنی منے ، منی کے حفظ کی تقریب میں حوصلہ افزائی ہو رہی ہے یا وہ خود''پھول کر کُپَّا'' ہوا جارہا ہے اس پر غور کرلیا جائے۔ کہیں ایساتو نہیں کہ ہماری یہ تقریب سعید'' اس بے چارے سادہ لوح بھولے بھالے حافظ مَدَنی منے کی ریاکاری کی تربیت گاہ بن رہی ہو!
میں نے اس طرح کی تقاریب میں اخلاص کو بہت تلاشا، مجھے نہ مل سکا۔ بس صرف نمو دو نمائش ہی نظر آئی۔ یہاں تک کہ بعض اوقات معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ تصاویر بھی کھینچی جاتی ہیں ۔اسی طرح اکثر کمسن مَدَنی منے ، منی کی ''روزہ کشائی'' کی تقریب میں بھی تصاویر کے گناہ کا سلسلہ ہوتاہے ۔ ورنہ سادگی کے ساتھ روزہ کشائی کی رسم ادا کی