مدینہ ۱:دورانِ گفتگو ہی کسی کی برائی یا عیب کا تذکرہ شروع ہو تو کوئی ایک کہہ دے، تُوْ بُوْ اِلَی اللہ ( یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف توبہ کرو) تو حاضرین کہیں اَسْتَغْفِرُ اللہ ( یعنی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بخشش چاہتا ہوں)۔
مدینہ ۲:دورانِ گفتگو دو افراد، تیسرے کا اور تین ہوں تو چوتھے کا،
حتی الامکان تذکرہ ہی نہ کریں ۔ اگر کرنا ہی ہو تو فقط اچھائی بیان کریں۔
مد ینہ:اس سلسلے میں امیر اہلسنت مدظلہ العالی کی منفرد تحقیق تالیف ''غیبت کی تباہ کاریاں'' پڑھنا ، پڑھانا، اور تقسیم کرنا انتہائی مفید ہے ۔ یہ کتاب مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )