رقّت طاری ہوئی اور آپ پر خوف خداعزوجل کا اسقدر غلبہ ہواکہ آپ نے بالکل خاموشی اختیار فرمالی اور بے قرار رہنے لگے ۔
( کچھ عرصہ گزرنے کے بعد) آپ نے فرمایا کہ'' اس کیفیت کے باعث میں نے محسوس کیا کہ ہمارے بزرگان دین رحمھم اللہ خوف خدا عزوجل میں کس طرح لرزاں و ترساں رہا کرتے تھے ، اب میں کھانا بھی کھارہاہوں ، سو بھی رہا ہوں، مگر ایسا لگتا ہے کہ کھانے کی لذَّتیں اورسونے کا لطف جاتا رہاہے ، اب کسی چیز میں مزہ نہیں آرہا، ایسا لگتا ہے جیسے کوئی غم لگ گیا ہے۔''(یہی وجہ ہے کہ) اکثر آپ کوکمرے میں تنہا مُناجات کرتے اورروتے ہوئے دیکھا گیا۔
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )