Brailvi Books

فکرِ مدینہ
105 - 166
گیاکہ گرم پانی کے کپ میں Tea bagڈال کر چائے کی پتی حل فرمائی پھردودھ اور چینی ڈالنے کے بعد Tea bagکو ہاتھ سے اچھی طرح نچوڑ کر نکالا (جب کہ عموماً لوگ بغیر نچوڑے پھینک دیتے ہیں) پھرآپ نے چائے نوش فرمائی۔آپ کی خدمت میں عرض کی گئی،'' حضور !اس میں کیا حکمت ہے ؟''ارشاد فرمایا ،'' میں نے محسوس کیا کہ دودھ اور چینی کے کچھ اجزاء Tea bagمیں رہ جائیں گے ، اس لئے میں نے احتیاطاً نچوڑ لیا،تاکہ کوئی کارآمد چیز ضائع نہ ہونے پائے ۔ '' 

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (17) خوفِ خدا عزوجل سے متعلق'' فکر ِمدینہ''
    عَرَب اَمارات میں تحریری کام کے دوران جب امیر اہل سنت دامت برکاتھم العالیہ کی نگاہ سے سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ کی یہ تحقیق گزری کہ موت کی وجہ سے عقل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، صرف بدن اور اعضاء میں تبدیلی آتی ہے۔لہٰذا مردہ زندوں ہی کی طرح عقلمند، سمجھدار اور تکالیف و لذات کو جاننے والا ہوتا ہے، عقل باطنی شے ہے اور نظر نہیں آتی۔ انسان کا جسم اگرچہ گل سڑکر بکھر جائے پھر بھی عقل سلامت رہتی ہے۔

(احیاء العلوم ،کتاب ذکرالموت ومابعدہ ،ج۴،ص۴۲۰)

    توآپ فکر ِمدینہ میں ڈوب گئے کہ ''بعد ِموت غسل ِمیت ، تدفین او رمنکر نکیر کے سوالات کے جوابات کے وقت کی سختیاں اور ان عظیم آزمائشوں کے وقت عقل اور محسوس کرنے کی طاقت جوں توں باقی رہے گی تو کیا حال ہوگا؟''یہ سوچ کر آپ پر بڑی
Flag Counter