| فکرِ مدینہ |
بھی توبہ کرتا ہوں۔ استقامت کی دعا فرمادیجئے۔ آہ! آہ ! آہ!
موت نزدیک گناہوں کی تہیں میل کے خول
آ برس جا کہ نہا دھو لے یہ پیاسا تیرا
(لیکن)حارسین کی آمد ہماری مجبوری ہے، زہے نصیب! کہ صرف گاڑیوں کے ڈرائیور اور حارسین تشریف لائیں اور وہ بھی کارپارکنگ کی جگہ تشریف رکھیں۔ ہاں ! جن کو اپنی آنکھوں کے قفل مدینہ پر اعتماد ہو وہ بے شک تشریف لائیں ۔ میں نے یہ خوف خدا عزوجل کے سبب لکھا ہے۔ آپ مجھے جلدی مشورہ میل فرما دیجئے۔ اور جن جن کو چاہیں ان کو اس میل کی پرنٹ آؤٹ پڑھادیجئے ، ان شاء اللہ عزوجل !اللہ عزوجل سے ڈرنے والے بحث میں نہیں پڑیں گے۔''
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )(15) ہاتھ دھوتے وقت'' فکر ِمدینہ''
آپ مدظلہ العالی نے ایک بار ارشاد فرمایا کہ''میں ہاتھ دھوتے وقت گھر میں حتی الامکان بغیر خوشبو کا صابن استعمال کرتا ہوں۔کپڑے دھونے کے صابن میں غالباً میل اور چکناہٹ دور کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے ، خوشبو دار صابون مہنگا ہوتا ہے ، مجھے ڈر لگتاہے کہ کہیں بِلا ضَرورت مہنگا صابون استعمال کرنے پر آخِرت میں گَرِفت نہ ہوجائے(یہ امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کی مدنی احتیاط ہے وگرنہ خوشبودار صابن کا استعمال بھی جائز ہے) ۔'' (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(16) چائے پیتے وقت ''فکر ِمد ینہ''
۱۴۲۳ ھ میں سفرِ'' چل مدینہ'' کے دوران آپ دامت برکاتھم العالیہ کو دیکھا