شیخ ِطریقت امیرِ اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ نے ایک بار جب یہ واقعہ پڑھا کہ،'' حضرت سیدنا سری سقطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا روزہ تھا۔ طاق میں پانی ٹھنڈا ہونے کیلئے آبخورہ (یعنی کوزہ) رکھ دیا تھا، نمازعصر کے بعد مراقبہ میں تھے ، حوران بہشتی نے یکے بعد دیگرے سامنے سے گزرنا شروع کیا۔ جو سامنے آتی اس سے دریافت فرماتے ، تُو کس کے لئے ہے ؟ وہ کسی ایک بندہ خدا کا نام لیتی۔ ایک آئی ، اس سے بھی یہی پوچھا تو اس نے کہا،'' میں اس کیلئے ہوں جو روزہ میں پانی ٹھنڈا ہونے کو نہ رکھے۔'' فرمایا،'' اگر توسچ کہتی ہے تو اس کوزہ کو گرادے''۔ اس نے گرادیا۔ اس کی آواز سے آنکھ کھل گئی، دیکھا تو وہ آبخورہ ٹوٹا پڑا تھا۔ (فیضان رمضان ص۳۶۴)
تو آپ مدظلہ العالی کے دل پر اس واقعہ کا گہرا اثر ہوا ،لہذا! اس کے بعدسے آپ ٹھنڈا پانی پینے سے اکثر کتراتے ہیں حتی کہ اکثر روزے سے ہونے کے باوجود شدید گرمی میں بھی آپ مدظلہ العالی سادہ پانی ہی استعمال فرماتے ہیں ۔
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )