Brailvi Books

فکرِ مدینہ
101 - 166
ہی سامان ہو، اسی کی بارگاہ میں رجوع رکھیں، اس سے ڈرتے رہیں، اور بہتری کی کوشش میں لگے رہیں اوریہ کوشش کبھی ترک نہیں ہونی چاہے کہ اصل کامیابی دنیا سے ایمان سلامت لے کر جانے میں ہے۔''

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (11) قبر سے متعلق فکر ِمدینہ
    بانی  دعوتِ اسلامی امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی راہِ خدا عزوجل میں سفر کے دوران مرکز الاولیاء(لاہور) میں مقیم تھے کہ ایک روز آپ نے فکر ِمدینہ کرتے ہوئے قبر کی تنگی کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ ''اگر قبر نے مجھے زور سے بھینچا تو میرا کیابنے گا؟''،''آج اگربالفرض مجھے کسی بڑے پائپ میں ڈال کر بند کر دیا جائے تو اس آزمائش کے تصور سے ہی دل دہل جاتا ہے، تو قبر کا بھینچنا کس قدر شدیدہوگا؟'' اسی طرح فکر ِمدینہ کرتے کرتے آپ پر اتنی رقت اورخوف طاری ہوا کہ آپ نے گفتگو کرنا بالکل ترک کر دیا (یعنی اپنے قفل ِ مدینہ کو مزید مضبوط کرلیا )، اور اسی کیفیت میں کسی کو بتائے بغیراپنی قیام گاہ سے باہر نکل پڑے اورمختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے ایک قبرستان میں داخل ہوگئے ۔اچانک آپ کو محسوس ہواکہ کہیں سے بڑی بھینی بھینی خوشبو آرہی ہے۔ آپ نے سوچا کہ شاید قریب میں اللہ عزوجل کے کسی مقبول بندے کی قبرہے۔ لہٰذا!آپ نے ان صاحبِ قبر کے وسیلے سے دعائے مغفرت کی اور پھر واپس لوٹ آئے۔کم وبیش ۱۹ دن تک آپ کی یہی کیفیت رہی کہ آپ نے کسی سے گفتگو نہ فرمائی اورشدید ضرورت پڑنے پر اشارے سے یا لکھ کر ہی بات کی ۔

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
Flag Counter