Brailvi Books

فضائلِ دعا
96 - 322
    ادب ۴۷: دعا کرتے کرتے ملال نہ لائے بلکہ نشاطِ قلب (خوشدلی)کے ساتھ عرض کرے:
 ((فإنّ اللہ لا یملّ لا تملّوا))۔(1)

    قال الرضاء:وفي لفظ: ((لا یسأم حتی تسأموا)) والمولی سبحنہ وتعالٰی منزّہ عن الملالۃ والسآمۃ وإنّما ھو من باب المشاکلۃ۔o)(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فرماتاہے:''میں اپنے بندے کے گمان سے نزدیک ہوں ''یہی وجہ ہے کہ علمانے دورانِ دعا اپنے گناہوں کو یاد کرنے سے منع فرمایاہے کہ یہ قبولیت دعا میں شک پیدا کریگا اسی طرح اپنی عبادتوں اور نیک کاموں کوبطورِ استحقاق پیش نظر نہ رکھے یعنی یوں نہ سمجھے: اے اللہ !میں نے فلاں نیک کام کیا تھا لہٰذا میں حقدار ہوں کہ تو مجھے فلاں چیز عطا فرما ، یامیری فلاں دعا قبول فرما کہ اس طرح کہنے سے اس میں اپنے اعمال پرناز اورخودپسندی جیسی برائیاں پیدا ہونگی اور عاجزی وانکساری جودعا میں مطلوب ہے وہ جاتی رہے گی۔

1 ''بے شک اللہ عزوجل ملال سے پاک ہے، تم بھی اپنے آپ کو ملا ل میں مبتلا نہ کرو۔''

(''صحیح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضیلۃ العمل... إلخ، الحدیث: ۷۸۵، ص۳۹۵)

2 ایک روایت میں یوں ہے: ((لا یسأم حتی تسأموا)) یعنی اللہ تعالیٰ ملول نہیں ہوتا، یہاں تک کہ تم ملال نہ کرو ۔ (''صحیح مسلم''، الحدیث: ۷۸۵، ص۳۹۵) اور وہ پروردگار تو ملا ل(یعنی اکتانے)سے پاک، منزہ ومبرا ہے اور یہ جو اس کی طرف نسبت کی گئی یہ بابِ مُشَاکَلَہ سے ہے۔ 

    مُشَاکَلَہ سے مراد یہ ہے کہ:'' کسی شئے کے معنی و مفہوم کو کسی ایسے دوسرے لفظ کے ذریعے ادا کیا جائے جو اس کے لئے مَوْضُوع لَہٗ نہیں( یعنی وضع نہیں کیا گیا )لیکن مَوْضُوع لَہ کے ساتھ استعمال ہوتاہے''، جیسے مذکورہ حدیث میں لفظ ِ ــ''لا یسأم''، ''حتی تسأموا''کے ساتھ واقع ہوا۔ کما بیّنہ في ''ثمرات الأوراق'': المشاکلۃ في اللغۃ: ہي المماثلۃ، وہي في المصطلح: ''ذکر الشیء *
Flag Counter