Brailvi Books

فضائلِ دعا
95 - 322
    ادب ۴۶: اللہ جل جلالہٗ کے سعتِ رحمت وصدقِ وعدہ (یعنی اللہ عز وجل کی رحمت کی وسعت اور سچے وعدے)
 (اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ) (1)
پر نظر کر کے اِستجابتِ دعا (دعا کی قبولیت) پر یقینِ کامل رکھے کہ کریم سائل کو محروم نہیں پھیرتا۔

     حدیث میں ہے:
 ((ادعوا اللہ وأنتم موقنون بالإجابۃ))۔(2)
    ''اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اس حال پر کہ تمہیں اِجابت (قبولیت)کا یقین ہو۔''

    جو دعا کرے اور یہ سمجھے کہ میری دعا کیا قبول ہو گی! اس کی دعا مقبول نہ ہو گی۔
قال اللہ تعالی:((أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ))(3)
اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ دعا کے وقت اپنا گناہ یاد نہ کرے کہ اس کا خیال یقینِ اِجابت میں خلل ڈالے گا اور طاعت (نیکی)کو بھی بطورِ استحقاق نہ یاد کرے کہ عُجب وناز (خود پسندی وغرور)میں مبتلا کریگا اور تضرّع وشکستگی (عاجزی وانکساری)میں مُخِل ہو گا۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنز الایمان: ''مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا۔''(پ۲۴، المؤمن: ۶۰) 

2 ''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، الحدیث: ۳۴۹۰، ج۵، ص۲۹۲۔

3 یعنی میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرماتاہوں۔

''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قول اللہ: (یُرِیدُونَ أَنْ یُبَدِّلُوا کَلاَمَ اللہِ)، الحدیث: ۷۵۰۵،ج۴،ص۵۷۴۔

4 دعا مانگتے وقت اللہ عزوجل کی رحمت کاملہ اور اسکا وعدہ جو قرآن میں ہے کہ ''مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا'' کو پیش نظر رکھ کر اپنی دعا کی قبولیت پر کامل یقین رکھے کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی حدیث مبارکہ میں بھی اسکا حکم دیا گیا ہے کیونکہ وہ کریم ہے اور کریم کے شایان نہیں کہ وہ سائل کو محروم کر دے اور جو دعا کرنے کے بعد قبولیت میں شک کرے تو اسکی دعا قبول کیونکر ہوسکتی ہے کہ خود رَبُّ العزت  *
Flag Counter