ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1یعنی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دعا کے بعد آمین کہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامُ دعا فرماتے تھے اورہارون عَلَیْہِ السَّلَامُ آمین کہتے جیسا کہ حدیث پاک میں ھمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول ہے ۔
''صحیح ابن خزیمۃ''، کتاب الإمامۃ، باب ذکر ما کان اللہ عزوجل خصّ نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم بالتأمین... إلخ، الحدیث: ۱۵۸۶، ج۳، ص۳۹.
۱؎ عن ابن مسعود عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ قال: ((إذا رفعتم أیدیکم إلی اللہ ودعوتم وسألتموہ حوائجکم فامسحوا أیدیکم علی وجوھکم فإن اللہ حي کریم یستحیي من عبدہ إذا رفع یدیہ وسأل أن یردّھما خائبین فامسحوا ھذا الخیر علی وجوھکم))۔
یعنی جب تم اپنے ہاتھ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھا کر دعا وسوال کرو انہیں منہ پر پھیرلو کہ خدائے تعالیٰ شرم وکرم والا ہے ، جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا اورسوا ل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خالی ہاتھ پھیرنے سے شرماتا ہے پس اس خیر کو اپنے مُونہوں پر مسح کرو یعنی خدائے کریم ہاتھ خالی نہیں پھیرتا۔کسی طرح کی بھلائی اورخیر وخوبی خواہ وہی خیر جس کیلئے دعاکی یا دوسری نعمت ضرور مرحمت فرماتاہے بنظراُس رحمت وبرکت کے دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا مقرر ہوا ، ۱۲ منہ قُدِّ سَ سِرُّہ،