| فضائلِ دعا |
علامہ شہاب خفاجی مصری ''نسیم الریاض'' میں فرماتے ہیں: ان اقوال میں یوں جمع کر سکتے ہیں کہ ہر امر کے لئے ایک مقام جداگانہ ہے اور ہر شخص کے لیے اس کی نیت، انتہی۔
أقول: ظاہراً یہ ایثار مقامِ خواص ہے اور عوام کو تقدیمِ نفس (پہلے اپنے لئے دعا مانگنا)ہی مناسب۔ ولہٰذا شارع صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ عام کے لیے تشریع فرماتے، اکثر یہی منقول بلکہ فقیر کے خیال میں نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دعا میں اپنے نفس اقدس کو اوروں سے مؤخر(یعنی پیچھے)رکھنا ثابت ہو۔ ہاں دعا لِلْغیر پر اقتصار بارہا ہوا ہے (ہاں!کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ صرف دوسرے کیلئے ہی دعا فرمائی ہے)اور حدیث صحیح:((ابدأ بنفسک ثم بمن تعول))(1)
سے بھی اس معنی پر استدلال کر سکتے ہیں۔ شرع مُطہَّر میں حقِ نفس، حقِ غیر پر بے شک مقدم۔
واللہ سبحانہ وتعالی أعلم۔ )o
ادب ۴۳: حتی الوُسْع اوقات واَماکنِ اِجابت کی رعایت کرے۔(2)
ادب ۴۴: آمین پر ختم کرے کہ دعا کی مُہْر ہے۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اپنے آپ سے ابتدا کیجئے پھر وہ جو آپ کی کفالت میں ہیں۔
(''فتح القدیر''، کتاب أدب القاضي، مسائل منثور من کتاب القضائ، ج۶، ص۴۳۶)
2 یعنی جن جن اوقات ومقامات سے متعلق احادیث یا اقوال، بزرگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ سے منقول کہ ان اوقات یا مقامات میں مولیٰ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم اپنے بندوں کے شامل حال رہتاہے ان اوقات ومقامات کی رعایت کرتے ہوئے ان میں خاص طورپر اپنے رب عزوجل کے حضور دعا کرے ۔
نوٹ: ا ن اوقات ومقامات کو جاننے کیلئے اسی کتاب میں تیسری اورچوتھی فصل کا مطالعہ فرمائیے۔