(اے اللہ!میرے فلاں بھائی کو شفا دے اور میری بخشش فرما)یا
اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِيْ وَاقْضِ دَیْنَ فُلانٍ
(اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اور میرے فلاں بھائی سے قرض کا بوجھ اتار دے)۔
اور''شرح عقیدہ برہانیہ ''میں ہے کہ دعا میں اپنے نفس پر بھائی مسلمانوں کو مقدم رکھے مگر یہ مرتبہ ایثار(1) کا ہے۔ حدیث میں ہے: ''جب بندہ اپنے بھائی مسلمان کے لئے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لبیک اے میرے بندے!اور میں پہلے تجھ سے شروع کروں گا۔''(2)اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہو گی کہ اِجابت (قبولیت)میں اس سے بِدایت (ابتداء)ہوگی تو مقام ایثار مقامِ عالی وشریف ہے۔''یہ لکھ کر اخیر میں اختیار دے دیا کہ
فإن شاء بدء بنفسہ وإن شاء بدء بغیرہ، انتھی.(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ایثار: ہو تقدیم الغیر علی النفس وحظوظہا الدنیاویۃ ورغبۃ في الحظوظ الدینیۃ.
''حظوظِ دینیہ (یعنی دینی ثواب کے حصول) میں رغبت کے باعث کسی دوسرے شخص کو دنیاوی چیزوں میں اپنے اوپر ترجیح دینا۔''(''الجامع لأحکام القرآن''، الحشر، تحت الآیۃ: ۹، الجزء الثامن عشر،ص۲۱.)
2 ''إحیاء علوم الدین''، کتاب آداب الألفۃ... إلخ، الباب الثاني، ج۲، ص۲۳۲.
3 آخر میں صاحبِ ''عقیدہ برہانیہ ''لکھتے ہیں کہ اب اگر چاہے تو اپنے آپ سے دعامیں پہل کرے اور اگر چاہے تو اپنے دوسرے بھائی کو مقدم کرے۔