ادب ۴۲: سنّت یوں ہے کہ پہلے اپنے نفس کے لیے دعا مانگے، پھر والدین ودیگر اہلِ اسلام کو شریک کرے۔
قال الرضاء: سعید بن یسار کہتے ہیں:میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے پاس بیٹھا تھا، ایک شخص کو یاد کر کے میں نے اس کے لئے دعائے رحمت کی حضرت ابن عمر نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ''پہلے اپنے نفس سے ابتدا کر۔''
رواہ ابن أبي شیبۃ.(2)
امام نخعی فرماتے ہیں: ''جب دعا کرے، اپنے نفس سے ابتدا کرے، تجھے کیا خبر کہ کونسی دعا قبول ہوجائے۔''(3)
اورصحاح(4)میں ثابت کہ حضور سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب کسی کے لیے دعا فرماتے اپنے نفسِ نفیس سے ابتدا فرماتے اور بارہا حضور اقدس سے اس کا خلاف بھی ثابت۔