کے وقت سے جاری ۔ اللہ تعالیٰ ان سے حکایت فرماتا ہے:
(رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ).(3)
قال الرضاء: اور حضرت ابراہیم
عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْمُ
(رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ)(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی وہ پیر واستاذ خود بھی شریعت کے پابند ہوں اوراپنے مریدین وتلامذہ کو بھی شرعی احکام کی بجا آوری کیلئے تاکید کرتے ہوں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مسلمان صحیح العقیدہ سنی ہوں ورنہ انکی شاگردی وصحبت جان لیوازہرِ قاتل کہ آخرت میں خود بھی پشیمان و پریشان اوراپنے مریدین وتلامذہ کیلئے بھی وبال جان۔
بالخصوص!آج کل بے عمل وبدعقیدہ نام نہاد پیروں کا دور دورہ ہے۔ مسلمانوں پر لازم کہ ایسوں سے خود بھی بچیں اور اپنے اقرباء کو بھی بچائیں اورکسی کو بھی پَرکھنے کیلئے شریعت کے ترازو کو استعمال میں لائیں کہ وہ شرعی احکام پر کس قدر عمل پیرا ہے اور کس طرح کے عقائد ونظریات رکھتا ہے کہیں وہ گستاخ وبے دین تو نہیں کیونکہ اصل معیار خرقِ عادت، شعبدے دکھانا نہیں بلکہ شرعی احکام کی بجا آوری اور عقائد ونظریات میں قرآن وسنت وسلف صالحین کی موافقت ہے۔
2 یعنی کبھی ابلیس آدمی کی شکل میں آتا ہے۔
3ترجمہ کنزالایمان:''اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو۔'' (پ۲۹، نوح: ۲۸)
4ترجمہ کنزالایمان: ''اے ھمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا۔''(پ۱۳، إبراہیم: ۴۱)