Brailvi Books

فضائلِ دعا
87 - 322
    دوسری حدیث میں ہے: ایک نے
''اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِيْ''
 (اے اللہ!میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما) کہا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنی دعا میں تعمیم کر کہ دعائے خاص وعام میں وہ فرق ہے جو زمین وآسمان میں۔''(1)

    صحیح حدیث میں فرماتے ہیں:''جو سب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے لئے استغفار کرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر مسلمان مرد ومسلمان عورت کے بدلے ایک نیکی لکھے گا۔''
    رواہ الطبراني في ''الکبیر'' عن عبادۃ بن الصامت رضي اللہ تعالٰی عنہ بسند جیّد۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''مراسیل أبي داود''، باب ما جاء في الدعاء، ص۸۔

و''رد المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، آداب الصلاۃ، مطلب: في الدعاء بغیر العربیۃ، ج۲، ص۲۸۶. 

''اپنی دعا میں تعمیم کر ''یعنی کسی مخصوص شخص ہی کیلئے دعا کرنے کے بجائے تمام مسلمانوں کو اپنی دعا میں شامل کر کہ کسی خاص شخص کیلئے دعا اور سب مسلمانوں کیلئے دعا، ثواب اور قبولیت کے اعتبار سے زمین وآسمان کا سا فرق رکھتی ہے ۔

2 اس حدیث کو طبرانی نے ''معجم کبیر'' میں جیّد سند کے ساتھ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

''مجمع الزوائد''، کتاب التوبۃ، باب الاستغفار للمؤمنین والمؤمنات، الحدیث: ۱۷۵۹۸، ج۱۰، ص۳۵۲، (بحوالہ طبرانی).

و''الجامع الصغیر''، الحدیث: ۸۴۲۰، ص۵۱۳، (بحوالہ طبرانی).
Flag Counter