Brailvi Books

فضائلِ دعا
86 - 322
    ادب ۴۰: جب اپنے لیے دعا مانگے تو سب اہلِ اسلام کو اس میں شریک کرلے۔ 

    قال الرضاء: کہ اگریہ خود قابلِ عطا نہیں کسی بندے کا طُفَیلی ہو کر مراد کو پہنچ جائے گا۔ )o 

    ابو الشیخ اصبہانی نے ثابت بنانی سے روایت کی: ''ہم سے ذکر کیا گیا جو شخص مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے دعائے خیر کرتا ہے قیامت کو جب ان کی مجلسوں پر گزرے گا ایک کہنے والا کہے گا:یہ وہ ہے کہ تمہارے لیے دنیا میں دعائے خیر کرتا تھا پس وہ اس کی شفاعت کریں گے اور جناب اِلٰہی میں عرض کر کے بہشت میں لے جائیں گے۔''

    یہاں تک کہ حدیث میں ہے: ''جو شخص نماز میں مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے دعا نہ کرے وہ نماز ناقص ہے۔''(1)

    قال الرضاء:  یہ بھی ابو الشیخ نے روایت کی اور خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے:
 وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ)
    ''مغفرت مانگ اپنے گناہوں کی اور سب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے لیے۔''
 (پ۲۶، محمد: ۱۹)
    حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ''اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ'' (اے اللہ!میری مغفرت فرما) کہتے سنا ، فرمایا:''اگر عام کرتا تو تیری دعا مقبول ہوتی۔''(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''کنز العمال''، کتاب الأذکار، أمکنۃ الإجابۃ، الحدیث: ۳۳۷۸، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۹، (بحوالہ ابو الشیخ)۔

2''ردّ المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، آداب الصلاۃ، مطلب: في الدعاء بغیر العربیۃ، ج۲، ص۲۸۶.
Flag Counter