ادب ۴۰: جب اپنے لیے دعا مانگے تو سب اہلِ اسلام کو اس میں شریک کرلے۔
قال الرضاء: کہ اگریہ خود قابلِ عطا نہیں کسی بندے کا طُفَیلی ہو کر مراد کو پہنچ جائے گا۔ )o
ابو الشیخ اصبہانی نے ثابت بنانی سے روایت کی: ''ہم سے ذکر کیا گیا جو شخص مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے دعائے خیر کرتا ہے قیامت کو جب ان کی مجلسوں پر گزرے گا ایک کہنے والا کہے گا:یہ وہ ہے کہ تمہارے لیے دنیا میں دعائے خیر کرتا تھا پس وہ اس کی شفاعت کریں گے اور جناب اِلٰہی میں عرض کر کے بہشت میں لے جائیں گے۔''
یہاں تک کہ حدیث میں ہے: ''جو شخص نماز میں مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے دعا نہ کرے وہ نماز ناقص ہے۔''(1)
قال الرضاء: یہ بھی ابو الشیخ نے روایت کی اور خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے: