Brailvi Books

فضائلِ دعا
85 - 322
حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ، نے لفظِ ''تکلُّف'' زیادہ فرمایا۔)o(1)

    ادب ۳۷:راگ اور زمزمے (ترنُّم)سے احتراز کرے کہ خلافِ ادب ہے۔

    ادب ۳۸:اللہ تعالیٰ سے اپنی کُل حاجتیں مانگے۔ 

    قال الرضاء: اس کی تحقیق حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ، عنقریب اِفادہ فرمائیں گے۔ )o

    ادب ۳۹: بہتر ہے کہ جو دعائیں حدیثوں میں وارد اور اکثر مطا لبِ دنیا وآخرت (یعنی دنیا وآخرت کی مرادوں)کو جامع ہیں اِنہیں پر اقتصار (اکتفا)کرے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کوئی حاجتِ نیک دوسرے کے مانگنے کو نہ چھوڑی۔ 

    قال الرضاء:  مگر کوئی دعائے ماثور(قرآن وحدیث میں وارد دعائیں)مُعیَّن نہ کرے کہ تعیین واِدامت (ہمیشگی)باعث زوالِ رقت وقلتِ حضور ہوتی ہے۔ )o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی دعا میں جس سجع سے بچنے کا حکم ہے اس سے مرادقصداً اپنے کلام کو ہم وزن وہم قافیہ کرناہے کیونکہ ممانعت کی وجہ دھیان بٹنا اوریکسوئی ختم ہونا ہے اور اگر کسی کا کلام بلا تکلُّف مُسَجَّع(یعنی ہم وزن وہم قافیہ )ہوتاہو تو یہ ہرگز منع نہیں؛ لہٰذا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جو مُسَجَّع دعائیں منقول ہیں وہ ہرگز ہرگز اس ممانعت کے تحت داخل نہیں کہ وہ بلا تکلُّف ہیں اسی وجہ سے مُصنّف مولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ الحنَّان نے لفظ ِ''تکلُّف'' کی قید کا اضافہ فرمایا ہے۔
Flag Counter