Brailvi Books

فضائلِ دعا
84 - 322
    ''رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا ۱؎ حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ''.
    ''خدایا!ہمیں دنیا وآخرت کی بھلائی عنایت فرما اور دوزخ کی آگ سے بچا۔''
 (پ۲، البقرۃ: ۲۰۱).
    عبداللہ بن مُغفَّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے نے دعا کی: ''خدا یا مجھے بِہِشت میں ایک سپید (سفید)محل دے کہ جاتے وقت میرے دہنے ہاتھ پر پڑے فرمایا:اے بیٹا!خدا سے بہشت کا سوال کر اور دوزخ سے پناہ چاہ''، فضول باتوں سے کیا فائدہ۔(1)

    ادب ۳۶: دعا میں سَجْع اورتَکلُّف سے بچے کہ باعث شغلِ قلب وزوالِ رِقّت ہے۔(2)حدیث میں آیا:
 ((إیّاکم والسجعَ في الدعاء))۔(3)
    قال الرضاء:  اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سجع کا آنا، سجع کا آنا ہے نہ کہ سجع کا لانا اور محذور مُسَجَّع کرنا ہے نہ کہ مسجّع ہونا کہ مشوِّشِ خاطر وہی ہے نہ کہ یہ، ولہٰذا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

؎۱ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً اَيْ: رَحْمَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً اَيْ: اَلْجَنَّۃَ۔ ۱۲ منہ قدس سرہ 

یعنی دنیا میں بھلائی سے مراد رحمت اور آخرت میں بھلائی سے مراد جنت ہے۔

1 ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الدعاء، باب کراہیۃ الاعتداء في الدعاء، الحدیث: ۳۸۶۴، ج۴، ص۲۸۲.

2 یعنی: دعا میں جان بوجھ کر ہم قافیہ وہم وزن جملے استعمال نہ کئے جائیں کہ اس سے یکسوئی ختم ہوتی ہے اور رِقَّت جاتی رہتی ہے۔ 

3''دعا میں سجع سے بچو۔''

''إحیاء علوم الدین''، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۵. 

و ''اتحاف السادۃ المتقین''، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۵، ص۲۴۹۔
Flag Counter