Brailvi Books

فضائلِ دعا
83 - 322
ادب ۳۵: دعا جامع،
قَلیلُ اللَّفظ وکَثِیرُ المَعنی
ہو تطویلِ بے جا سے احتراز کرے۔(1)

    حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ہے: ''آخر زمانے کے لوگ دعا میں حد سے بڑھ جائیں گے اور آدمی کو اس قدر دعا کفایت کرتی ہے کہ خدایا! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں مجھے بِہِشت(یعنی جنت)عطا فرما اور اس قول وفعل کی جو اس سے نزدیک کرے، توفیق دے۔(2)

    بعض کتابوں میں ہے: یہ دعا جامع وکافی ہے:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کیلئے ہے کہ اے مولیٰ! تو اپنے بندوں کی بخشش فرما اس لئے کہ توہی بخشش فرمانے والا ہے۔جیسا کہ باپ اپنے بیٹے سے کہتا ہے کہ اگر تو میرا بیٹا ہے تو یہ کام کر یعنی تو میرا حکم مان اور یہ کام کر ڈال اس لئے کہ تو میرا بیٹاہے۔ اسی طرح رعایا میں سے کسی کا حاکم سے کہنا کہ اگر تو حاکم ہے تو مجھ پر عطاؤں کی بارش فرما یعنی مجھے عطیات سے نواز دے، یہ نہیں کہ اگر تو حاکم ہے تو دے ورنہ نہیں۔ 

    چنانچہ مذکورہ حدیث پاک کے معنی یہ ہونگے کہ اے پروردگار! ھماری بخشش فرما، اس لئے کہ تو خوب بخشش فرمانے والا ہے۔

1یعنی دعا میں کلام کو بلا ضرورت طویل کرنے سے پرہیز کرے اورایسے الفاظ استعمال کرے جس کے مفہوم میں وسعت ہو ،مثلاً:''رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً''کہ اس مختصر سے کلام میں دونوں جہاں کی بھلائیاں مانگ لی گئیں ،اورزہے نصیب !کہ یہی پرہیز عام گفتگو میں بھی ہو کہ فضول گفتگو سے آدمی کا وقارختم ہوجاتاہے ۔ اس پر مزید یہ کہ محشر میں ہر ہر لفظ کو پڑھ کر سنانا پڑے گا۔ والعیاذباللہ ۔

2''إحیاء علوم الدین''، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۵.
Flag Counter