Brailvi Books

فضائلِ دعا
82 - 322
وہ رِیا ہے اور حرام، یہ نکتہ یاد رہے۔)o

    ادب ۳۴: دعا عزم وجزم(یعنی پختہ ارادے اور یقین)کے ساتھ ہو یوں نہ کہے کہ الٰہی!تو چاہے تو میری یہ حاجت روا فرما کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔(1)
    قال الرضاء: وأما قولہ صلی اللہ علیہ وسلم:
((إن تغفر اللّٰھم تغفر جمَّا	       وأَيُّ عبدٍ لک لا أَلَمَّا))۔(2)
    رواہ الترمذي والحاکم عن ابن عباس رضي اللہ تعالی عنھما وصححاہ فلیس ''إن'' فیہ للشکّ بل للتعلیل کقولک لابنک: ''إن کنت ابني فافعل کذا'' أي: افعلہ وامتثل أمري؛ لأنّک ابني وکقولھم: ''إن کنت سلطاناً فأعط الجزیل''، فالمعنی اغفر کثیراً؛ لأنّک غفار۔ 

)o(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''صحیح البخاري''، کتاب الدعوات، باب لیعزم المسألۃ... إلخ، الحدیث:۳۶۳۸-۶۳۳۹،

ج۴، ص ۲۰۰.

2یعنی ''اے رب ھمارے! اگر تو بخشش فرماتاہے تو اپنے بندوں کے سارے گناہوں کو بخش دے تیرا کونسا بندہ ہے جس سے گناہ سرزد نہ ہوتا ہو۔''

''سنن الترمذي''، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ النجم، الحدیث: ۳۲۹۵، ج۵، ص۱۸۷۔

3رہا یہ اعتراض کہ مصطفی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْم نے بھی اس طرح دعا فرمائی کہ ''اے رب ھمارے! اگر تو بخشش فرماتاہے تو اپنے بندوں کے سارے گناہوں کو بخش دے تیرا کونسا بندہ ہے جس سے گناہ سرزد نہ ہوتا ہو۔'' اس حدیث پاک کو امام ترمذی وحاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت کیا اورصحیح قرار دیا۔ مذکورہ بالا اعتراض کا جواب یہ ہے کہ سرکار نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک کلام میں لفظِ ''إِنْ'' بمعنی ''اگر'' شک اور تذبذب کی بنا پر نہیں کہ اے اللہ! اگر تو مغفرت فرمانا چاہے تو مغفرت فرما دے بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک کلام میں لفظ ِ''إن'' تعلیل یعنی وجہ بیان کرنے *
Flag Counter