ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1''صحیح البخاري''، کتاب الدعوات، باب لیعزم المسألۃ... إلخ، الحدیث:۳۶۳۸-۶۳۳۹،
ج۴، ص ۲۰۰.
2یعنی ''اے رب ھمارے! اگر تو بخشش فرماتاہے تو اپنے بندوں کے سارے گناہوں کو بخش دے تیرا کونسا بندہ ہے جس سے گناہ سرزد نہ ہوتا ہو۔''
''سنن الترمذي''، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ النجم، الحدیث: ۳۲۹۵، ج۵، ص۱۸۷۔
3رہا یہ اعتراض کہ مصطفی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْم نے بھی اس طرح دعا فرمائی کہ ''اے رب ھمارے! اگر تو بخشش فرماتاہے تو اپنے بندوں کے سارے گناہوں کو بخش دے تیرا کونسا بندہ ہے جس سے گناہ سرزد نہ ہوتا ہو۔'' اس حدیث پاک کو امام ترمذی وحاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت کیا اورصحیح قرار دیا۔ مذکورہ بالا اعتراض کا جواب یہ ہے کہ سرکار نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک کلام میں لفظِ ''إِنْ'' بمعنی ''اگر'' شک اور تذبذب کی بنا پر نہیں کہ اے اللہ! اگر تو مغفرت فرمانا چاہے تو مغفرت فرما دے بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک کلام میں لفظ ِ''إن'' تعلیل یعنی وجہ بیان کرنے *